وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز نے وفاقی وزیر چوہدری سالک حسین کو ہرجانے کا نوٹس بھجوانے کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ اگر ان کے پاس الزامات کے ثبوت موجود ہیں تو سامنے لائیں، بصورت دیگر انہیں عدالت میں جواب دینا ہوگا۔
اٹک میں ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے مریم نواز نے چوہدری سالک حسین کو مخاطب کرکے کہا کہ وہ وفاقی وزیر ہیں، اس لیے انہیں بغیر ثبوت الزامات عائد کرنے کے بجائے شواہد پیش کرنے چاہئیں۔
وزیراعلیٰ پنجاب کا کہنا تھا کہ چوہدری سالک کے پاس کوئی ثبوت ہے تو اسے عوام کے سامنے لائیں، ورنہ وہ انہیں عدالت میں لے کر جائیں گی۔ انہوں نے اعلان کیا کہ وفاقی وزیر کو ہرجانے کا قانونی نوٹس بھجوایا جائے گا۔
پرویز الٰہی حکومت کے بیان پر مریم نواز کا ردعمل
مریم نواز نے چوہدری سالک حسین کے اس بیان پر بھی ردعمل دیا جس میں انہوں نے پرویز الٰہی کے دورِ حکومت کو بہترین قرار دیا تھا۔
وزیراعلیٰ پنجاب نے کہا کہ جب وہ بارش کے دوران گجرات گئی تھیں تو وہاں پانی کی صورتحال انتہائی خراب تھی اور ان کی گاڑی بھی پانی میں ڈوب گئی تھی۔
انہوں نے اس مثال کے ذریعے سابق وزیراعلیٰ پنجاب پرویز الٰہی کے دورِ حکومت میں انتظامی کارکردگی پر سوال اٹھایا۔
پنجاب میں افسران کی تعیناتی میرٹ پر ہوتی ہے: مریم نواز
وزیراعلیٰ پنجاب نے صوبائی حکومت پر کرپشن کے الزامات کے حوالے سے بھی بات کی۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر حکومت اتنی ہی کرپٹ ہے تو پھر چوہدری سالک حسین وفاقی وزیر بن کر کیوں بیٹھے ہیں؟
مریم نواز نے کہا کہ وہ کسی کی نہیں سنتیں اور پنجاب میں افسران کو میرٹ کی بنیاد پر تعینات کرتی ہیں۔
ان کا مزید کہنا تھا کہ سفارش پر تعینات ہونے والے افسران ملک اور عوام کا نقصان کرتے ہیں، اس لیے سرکاری عہدوں پر تقرریوں میں میرٹ کو ترجیح دینا ضروری ہے۔
وزیراعلیٰ پنجاب کے اس بیان کے بعد چوہدری سالک حسین کے الزامات اور مجوزہ قانونی کارروائی کے حوالے سے سیاسی حلقوں میں بحث مزید بڑھنے کا امکان ہے۔
