بھارتی ریاست اتر پردیش میں 19 سالہ لڑکی پسند کی شادی کی خواہش پوری نہ ہونے پر تقریباً 100 فٹ بلند موبائل ٹاور پر چڑھ گئی۔ پولیس اور اہل خانہ کی جانب سے کئی گھنٹے تک اسے نیچے اترنے پر آمادہ کرنے کی کوششیں کی گئیں، تاہم لڑکی مقامی عالم کی جانب سے ویڈیو کال پر نکاح پڑھائے جانے کے بعد ٹاور سے نیچے اتر آئی۔
پسند کی شادی پر خاندانوں کا اختلاف
بھارتی میڈیا رپورٹس کے مطابق اتر پردیش میں صاحبہ عرف مہک نامی 19 سالہ لڑکی اپنے 21 سالہ محبوب نورالدین سے شادی کرنا چاہتی تھی، لیکن دونوں خاندان اس رشتے کے مخالف تھے۔
رپورٹس کے مطابق مہک نے اپنی والدہ سے شادی کے معاملے پر بحث کی اور جب اس کی خواہش پوری نہ ہوئی تو وہ غصے میں تقریباً 100 فٹ اونچے موبائل ٹاور پر چڑھ گئی۔
اس دوران نورالدین روزگار کے سلسلے میں دوسرے شہر ممبئی میں موجود تھا۔ دونوں کی شادی کی خواہش اور خاندانوں کی مخالفت کے باعث صورت حال کشیدہ ہوگئی، جس کے بعد اہل خانہ اور مقامی لوگوں نے لڑکی کو ٹاور سے نیچے اتارنے کی کوششیں شروع کردیں۔
چار گھنٹے تک ٹاور پر موجود رہی لڑکی
پولیس کے مطابق مہک تقریباً 4 گھنٹے تک موبائل ٹاور پر موجود رہی۔ اس دوران پولیس اہلکاروں، رشتے داروں اور علاقہ مکینوں نے اسے سمجھانے اور بحفاظت نیچے اترنے پر آمادہ کرنے کی کوشش کی۔
تاہم لڑکی اپنے مطالبے پر بضد رہی اور اس نے دھمکی دی کہ اگر اس کی بات نہ مانی گئی تو وہ ٹاور سے چھلانگ لگا دے گی۔
چین کے نوجوان نے اڑنے والا ہوور بورڈ تیار کرلیا، خطرناک تجربات بھی کیے
صورتحال کی سنگینی کے پیش نظر نورالدین سے بھی رابطہ کیا گیا، جبکہ دونوں خاندانوں کے درمیان اختلافات ختم کرانے اور معاملے کو حل کرنے کی کوششیں بھی کی گئیں۔
ویڈیو کال پر نکاح کے بعد نیچے اتر آئی
میڈیا رپورٹس کے مطابق جب خاندانوں کی جانب سے رضامندی سامنے نہ آئی تو ایک مقامی مسلمان عالم نے ویڈیو کال کے ذریعے جوڑے کا نکاح پڑھا دیا۔
نورالدین ممبئی سے آن لائن نکاح میں شریک ہوا، جبکہ مہک ٹاور پر موجود تھی۔ نکاح کی کارروائی مکمل ہونے کے بعد لڑکی پولیس کی مدد سے ٹاور سے نیچے اتر آئی۔
اس طرح کئی گھنٹے جاری رہنے والی صورت حال کا اختتام ہوا۔ واقعے کی تفصیلات بھارتی میڈیا رپورٹس اور پولیس کے بیان کی بنیاد پر سامنے آئی ہیں۔ تاہم فراہم کردہ رپورٹ میں نکاح کی قانونی حیثیت یا اس حوالے سے متعلقہ حکام کے کسی باضابطہ بیان کی تفصیل شامل نہیں ہے۔
