افغانستان میں طالبان حکومت نے قرنیے کی پیوندکاری پر پابندی لگادی

تازہ ترین خبروں اور تبصروں کیلئے ہمارا وٹس ایپ چینل جوائن کریں

افغانستان میں طالبان حکومت نے قرنیے کی پیوندکاری کے آپریشنز روکنے کا حکم دے دیا ہے۔ برطانوی اخبار کی رپورٹ کے مطابق طالبان حکام نے اس طبی عمل کو اسلامی تعلیمات کے خلاف قرار دیا ہے، جبکہ افغان ڈاکٹر نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ پابندی سے سیکڑوں افراد بینائی بحال کرنے کے علاج سے محروم ہوسکتے ہیں۔

latest urdu news

افغانستان میں قرنیے کی پیوندکاری پر پابندی کے بعد بینائی کے مسائل سے دوچار مریضوں کے علاج کے حوالے سے تشویش پیدا ہوگئی ہے۔ برطانوی اخبار کے مطابق طالبان حکام نے ڈاکٹروں کو قرنیے کی پیوندکاری کے آپریشنز روکنے کی ہدایت دی ہے۔

رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ یہ پابندی زبانی احکامات کے ذریعے نافذ کی گئی۔ تاہم فراہم کردہ معلومات میں پابندی کے باضابطہ تحریری حکم یا اس کے نفاذ کے مکمل طریقہ کار کی تفصیلات سامنے نہیں آئیں۔

پابندی سے سیکڑوں مریض متاثر ہونے کا خدشہ

افغان ڈاکٹر نور زمان ہاشم نے قرنیے کی پیوندکاری پر پابندی کے ممکنہ طبی اثرات پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔ ان کے مطابق اس فیصلے کے باعث سیکڑوں افراد بینائی بحال کرنے کے علاج سے محروم ہوسکتے ہیں۔

ڈاکٹر نور زمان ہاشم نے بتایا کہ کابل کے ایک اسپتال میں پابندی عائد ہونے سے پہلے قرنیے کی پیوندکاری کے 90 آپریشن کیے گئے تھے۔ ان کا کہنا تھا کہ طالبان حکام نے زبانی طور پر ڈاکٹروں کو یہ آپریشن روکنے کی ہدایت دی۔

قرنیہ آنکھ کا شفاف بیرونی حصہ ہے، جو روشنی کو آنکھ کے اندر داخل ہونے میں مدد دیتا ہے۔ اگر کسی بیماری، چوٹ یا دوسری وجہ سے قرنیے کو نقصان پہنچ جائے اور بینائی متاثر ہو، تو بعض مریضوں کے لیے قرنیے کی پیوندکاری علاج کا اہم ذریعہ بن سکتی ہے۔

اس طریقہ علاج میں متاثرہ قرنیے کے خراب حصے یا ضرورت کے مطابق پورے قرنیے کو عطیہ کردہ صحت مند قرنیے سے تبدیل کیا جاتا ہے۔ اس لیے ایسے آپریشنز کی بندش ان مریضوں کے لیے مشکلات پیدا کرسکتی ہے جنہیں بینائی بہتر بنانے کے لیے اس علاج کی ضرورت ہو۔

طالبان حکومت ٹی ٹی پی، بی ایل اے اور دیگر دہشتگرد تنظیموں کو پناہ دے رہی ہے، پاکستان

امریکی فلاحی تنظیم کا پابندی ختم کرنے کا مطالبہ

دوسری جانب ایک امریکی فلاحی تنظیم نے طالبان حکومت سے قرنیے کی پیوندکاری پر پابندی ختم کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔ تنظیم کے مطابق اس فیصلے سے اس کا فلاحی پروگرام متاثر ہوا ہے۔

قرنیے کی پیوندکاری سے متعلق فلاحی پروگرام ایسے مریضوں کے لیے اہم ہوسکتے ہیں جنہیں علاج کی ضرورت ہوتی ہے لیکن وہ اس کے اخراجات برداشت نہیں کرسکتے۔ پابندی برقرار رہنے کی صورت میں ایسے مریضوں کو علاج تک رسائی میں مزید مشکلات کا سامنا کرنا پڑسکتا ہے۔

افغانستان میں طبی سہولتوں پر تشویش

قرنیے کی پیوندکاری روکنے کے فیصلے نے افغانستان میں آنکھوں کے مریضوں کے علاج اور طبی خدمات تک رسائی کے حوالے سے سوالات اٹھا دیے ہیں۔ ڈاکٹر نور زمان ہاشم کے بیان کے مطابق اس پابندی سے بڑی تعداد میں مریض متاثر ہوسکتے ہیں، جبکہ امریکی فلاحی تنظیم بھی اپنے پروگرام پر پڑنے والے اثرات کے باعث اسے ختم کرنے کا مطالبہ کر رہی ہے۔

تاحال فراہم کردہ رپورٹ میں طالبان حکومت کی جانب سے اس پابندی کے بارے میں مزید تفصیلی وضاحت شامل نہیں ہے۔ اس لیے پابندی کے قانونی دائرہ کار، مدت اور تمام طبی مراکز پر اس کے اطلاق سے متعلق صورت حال واضح نہیں۔

شیئر کریں:

ہمیں فالو کریں