ایران جنگ کی وجہ سے امریکا میں بہت زیادہ مہنگائی ہوئی: ڈیموکریٹک رکن کانگریس

تازہ ترین خبروں اور تبصروں کیلئے ہمارا وٹس ایپ چینل جوائن کریں

امریکی ڈیموکریٹک رکن کانگریس سہاس صبرامنیم نے ایران جنگ ختم کرنے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ جنگ کے باعث امریکا میں مہنگائی میں اضافہ ہوا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ جنگ پر خرچ ہونے والی رقم اشیائے ضروریہ کی قیمتیں کم کرنے، صحت کی سہولتیں بہتر بنانے اور رہائش کو عام شہریوں کے لیے سستا کرنے پر خرچ ہونی چاہیے۔

latest urdu news

ایران جنگ ختم کرنے کا مطالبہ

امریکی ڈیموکریٹک رکن کانگریس سہاس صبرامنیم نے جیو نیوز کو انٹرویو دیتے ہوئے ایران جنگ ختم کرنے پر زور دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ امریکی ٹیکس دہندگان کی رقم جنگ پر خرچ کرنے کے بجائے ایسے اقدامات کے لیے استعمال ہونی چاہیے جن سے عام شہریوں کو براہ راست فائدہ پہنچے۔

سہاس صبرامنیم کے مطابق ایران جنگ کی وجہ سے امریکا میں مہنگائی میں نمایاں اضافہ ہوا ہے، جس سے شہریوں کے لیے روزمرہ ضروریات پوری کرنا مشکل ہوسکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ جنگ کے خاتمے سے وسائل کو عوامی مسائل حل کرنے کی جانب منتقل کرنے کا موقع ملے گا۔

انہوں نے اشیائے ضروریہ کی قیمتوں میں کمی، صحت کی سہولتوں میں بہتری اور رہائش کے اخراجات کم کرنے کو اہم ترجیحات قرار دیا۔

ڈیموکریٹس کی کامیابی پر امریکی عوام کو ترجیح دینے کا دعویٰ

سہاس صبرامنیم نے کہا کہ اگر ڈیموکریٹس انتخابات میں کامیاب ہوتے ہیں تو وہ امریکی عوام کی ضروریات کو ترجیح دیں گے۔ ان کے مطابق حکومت کی توجہ ایسے مسائل پر ہونی چاہیے جو عام شہریوں کی زندگیوں اور گھریلو اخراجات کو متاثر کرتے ہیں۔

انہوں نے یہ بھی کہا کہ وہ ریاست ورجینیا سے کانگریس کے دوبارہ امیدوار ہیں۔ ان کے بیان میں ایران جنگ کے علاوہ مہنگائی، صحت کی سہولتوں اور رہائش کے اخراجات جیسے معاملات بھی نمایاں رہے۔

سہاس صبرامنیم کے یہ بیانات امریکی سیاست میں حکومتی اخراجات اور عوامی فلاح سے متعلق جاری بحث کی عکاسی کرتے ہیں، جس میں مختلف سیاسی جماعتیں ملکی وسائل کے استعمال کے بارے میں اپنے اپنے مؤقف پیش کرتی ہیں۔

ایران جنگ میں امریکا کو اسلحے اور گولہ بارود کی کمی کا سامنا ہے، پینٹاگون واچ ڈاگ رپورٹ

قانونی تارکین وطن اور گرین کارڈ کے مسائل

ڈیموکریٹک رکن کانگریس نے ٹرمپ انتظامیہ کی امیگریشن پالیسیوں پر بھی تنقید کی۔ ان کا کہنا تھا کہ انتظامیہ قانونی طور پر امریکا میں مقیم تارکین وطن کے خلاف اقدامات کررہی ہے۔

سہاس صبرامنیم نے دعویٰ کیا کہ ایسے افراد بھی مشکلات کا سامنا کررہے ہیں جو تقریباً 20 سال سے ورک ویزا پر امریکا میں کام کررہے ہیں، لیکن انہیں اب تک گرین کارڈ نہیں مل سکا۔

ان کے مطابق طویل عرصے سے امریکا میں کام کرنے والے افراد کے لیے مستقل رہائش حاصل کرنا ایک اہم مسئلہ ہے۔ اس صورت حال کے باعث ایسے تارکین وطن کو غیر یقینی کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے جو برسوں سے امریکی معیشت اور مختلف شعبوں میں خدمات انجام دے رہے ہیں۔

ویزا اپائنٹمنٹس اور امیگریشن نظام میں اصلاحات کا مطالبہ

سہاس صبرامنیم نے امریکی سفارت خانوں اور قونصل خانوں میں ویزا اپائنٹمنٹس سے متعلق مسائل کی بھی نشاندہی کی۔ ان کا کہنا تھا کہ ویزا درخواستوں کے عمل میں درپیش مشکلات کو دور کرنے کی ضرورت ہے۔

انہوں نے امیگریشن حکام کے اختیارات کے حوالے سے بھی تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ وہ نہیں چاہتے کہ امیگریشن اینڈ کسٹمز انفورسمنٹ (آئی سی ای) کا محکمہ اپنے اختیارات کی حدود سے تجاوز کرے۔

ڈیموکریٹک رکن کانگریس نے امیگریشن نظام میں جامع اصلاحات پر زور دیا تاکہ قانونی تارکین وطن کو درپیش مسائل حل کیے جاسکیں اور درخواستوں کے عمل کو بہتر بنایا جاسکے۔

مہنگائی اور امیگریشن امریکی سیاست کے اہم موضوعات

سہاس صبرامنیم کے انٹرویو میں ایران جنگ کے اخراجات، مہنگائی، صحت کی سہولتوں، رہائش اور امیگریشن پالیسیوں کو اہم موضوعات کے طور پر اجاگر کیا گیا۔ ان کا مؤقف ہے کہ حکومتی پالیسیوں میں امریکی عوام کی معاشی ضروریات اور قانونی تارکین وطن کے مسائل کو اہمیت دی جانی چاہیے۔

تاہم، ایران جنگ کے باعث مہنگائی میں اضافے کی مقدار اور اس کے مختلف معاشی عوامل پر اثرات کا تعین کرنے کے لیے مزید معاشی اعداد و شمار اور شواہد درکار ہوں گے۔ فی الحال یہ مؤقف سہاس صبرامنیم نے اپنے انٹرویو میں پیش کیا ہے۔

شیئر کریں:

ہمیں فالو کریں