میئر کراچی مرتضیٰ وہاب کا کہنا ہے کہ یونیورسٹی روڈ پر ترقیاتی کام ایک بڑا چیلنج تھا، تاہم اس منصوبے سے بہت کچھ سیکھنے کو ملا ہے۔ ان کے مطابق سڑک سے گزرنے والے شہریوں کی 80 فیصد مشکلات کم ہوگئی ہیں، جبکہ نیپا سے حسن اسکوائر تک جاری کام نومبر تک مکمل کرنے کا ہدف ہے۔
کراچی: میئر کراچی مرتضیٰ وہاب نے شہر کی اہم شاہراہ یونیورسٹی روڈ پر جاری ترقیاتی کاموں کو ایک بڑا چیلنج قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ اس منصوبے کے دوران مختلف تجربات سے بہت کچھ سیکھنے کا موقع ملا۔ ان کا کہنا ہے کہ تعمیراتی کام کے باعث شہریوں کو جن مشکلات کا سامنا تھا، ان میں نمایاں کمی آئی ہے۔
ایک بیان میں مرتضیٰ وہاب نے کہا کہ یونیورسٹی روڈ پر کام کرنا آسان نہیں تھا، تاہم متعلقہ اقدامات کے نتیجے میں اس سڑک سے گزرنے والے شہریوں کی 80 فیصد مشکلات کم ہوگئی ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ نیپا سے حسن اسکوائر تک سڑک پر کام جاری ہے، جسے نومبر تک مکمل کرنے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے۔
یونیورسٹی روڈ کراچی کی اہم شاہراہوں میں شمار ہوتی ہے اور روزانہ بڑی تعداد میں شہری اس راستے کو آمدورفت کے لیے استعمال کرتے ہیں۔ اس لیے یہاں ترقیاتی کاموں کے دوران ٹریفک کی روانی برقرار رکھنا اور شہریوں کو سہولت فراہم کرنا انتظامیہ کے لیے اہم معاملہ رہا ہے۔
یونیورسٹی روڈ پر تعمیراتی کام بڑا چیلنج کیوں بنا؟
مرتضیٰ وہاب کے مطابق یونیورسٹی روڈ پر ترقیاتی کاموں کے دوران کئی مشکلات پیش آئیں، جن سے نمٹنے کے لیے مختلف اقدامات کرنا پڑے۔ ان کا کہنا تھا کہ اس منصوبے نے انتظامیہ کو بہت کچھ سیکھنے کا موقع دیا۔
شہر کی مصروف شاہراہوں پر تعمیراتی سرگرمیوں کے باعث ٹریفک کی روانی متاثر ہوتی ہے اور شہریوں کو متبادل راستے اختیار کرنا پڑتے ہیں۔ خاص طور پر دفاتر، تعلیمی اداروں اور کاروباری مراکز کی جانب سفر کرنے والوں کو اضافی وقت درکار ہوسکتا ہے۔
میئر کراچی نے دعویٰ کیا کہ یونیورسٹی روڈ سے گزرنے والوں کی 80 فیصد مشکلات کم ہوگئی ہیں۔ تاہم، انہوں نے اس شرح کے تعین کے لیے کسی سروے یا تفصیلی اعداد و شمار کا ذکر نہیں کیا۔
نیپا سے حسن اسکوائر تک کام نومبر میں مکمل کرنے کا ہدف
میئر کراچی نے بتایا کہ یونیورسٹی روڈ پر نیپا سے حسن اسکوائر تک ترقیاتی کام تاحال جاری ہے اور اسے نومبر تک مکمل کرنے کا منصوبہ ہے۔
اس حصے پر کام کی تکمیل شہریوں کے لیے اہمیت رکھتی ہے، کیونکہ یونیورسٹی روڈ پر ٹریفک کی روانی بہتر ہونے سے روزانہ سفر کرنے والے افراد کو سہولت مل سکتی ہے۔ تاہم، منصوبے کی مقررہ مدت میں تکمیل کے لیے تعمیراتی سرگرمیوں کو مؤثر انداز میں آگے بڑھانا ضروری ہوگا۔
ہل پارک کے ایم سی کی ملکیت ہے اور رہے گی، ایک انچ زمین بھی کسی کو نہیں دی: مرتضیٰ وہاب
شہریوں کو توقع ہے کہ کام مکمل ہونے کے بعد اس شاہراہ پر آمدورفت میں مزید بہتری آئے گی اور تعمیراتی سرگرمیوں کے باعث پیش آنے والی مشکلات میں کمی ہوگی۔
کراچی سرکلر ریلوے کی بندش اور متبادل راستے
مرتضیٰ وہاب نے کراچی سرکلر ریلوے کی طویل عرصے سے بندش کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ شہریوں کی سہولت کے لیے متبادل راستے بنائے جارہے ہیں۔
کراچی میں بڑھتی ہوئی آبادی اور ٹریفک کے دباؤ کے باعث شہری آمدورفت ایک اہم مسئلہ ہے۔ سرکلر ریلوے کی بندش کے باعث مسافروں کو اپنی منزل تک پہنچنے کے لیے سڑکوں پر چلنے والی گاڑیوں اور دیگر ذرائع پر انحصار کرنا پڑتا ہے۔
میئر کراچی کے مطابق متبادل راستوں کی تیاری کا مقصد شہریوں کو آمدورفت میں سہولت فراہم کرنا ہے۔ ان اقدامات کی کامیابی کا انحصار راستوں کی دستیابی، ٹریفک انتظامات اور مختلف علاقوں کے درمیان رابطے کو بہتر بنانے پر ہوگا۔
شہر میں خوف کے ماحول کے خاتمے پر بھی زور
میئر کراچی نے اپنے بیان میں شہر کی مجموعی صورت حال پر بات کرتے ہوئے کہا کہ کچھ لوگ کراچی میں خوف کی فضا برقرار رکھنے کے ذمہ دار ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ان شاء اللہ شہر میں خوف کا سایہ نہیں آنے دیا جائے گا۔
مرتضیٰ وہاب کے بیان میں ایک طرف شہری بنیادی ڈھانچے کی بہتری اور ترقیاتی منصوبوں کا ذکر کیا گیا، جبکہ دوسری جانب شہر میں امن اور شہریوں کے تحفظ کی اہمیت پر بھی زور دیا گیا۔
یونیورسٹی روڈ کے منصوبے کی تکمیل، متبادل راستوں کی بہتری اور آمدورفت کے مسائل کا حل کراچی کے شہریوں کے لیے اہم ہے۔ اب توجہ اس بات پر ہوگی کہ جاری ترقیاتی کام مقررہ مدت میں مکمل ہوں اور شہریوں کو ان کے عملی فوائد حاصل ہوسکیں۔
