خیبرپختونخوا میں نئے وزیراعلیٰ کے انتخاب کے معاملے پر پاکستان تحریک انصاف کے اندر مختلف تجاویز سامنے آگئیں۔ ذرائع کے مطابق 30 سے زائد ارکان اسمبلی علی امین گنڈاپور کو دوبارہ وزیراعلیٰ بنانے کے خواہش مند ہیں، جبکہ بعض رہنما بونیر یا ہزارہ سے امیدوار لانے کے حامی ہیں۔
پشاور: خیبرپختونخوا میں نئے وزیراعلیٰ کے انتخاب کے معاملے پر پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے اندر سیاسی سرگرمیاں تیز ہوگئی ہیں۔ ذرائع کے مطابق پارٹی کے مختلف رہنما اور ارکان اسمبلی اس اہم عہدے کے لیے اپنے پسندیدہ امیدواروں کی حمایت میں سرگرم ہیں، جبکہ وزیراعلیٰ کے انتخاب کے حوالے سے پارٹی میں مختلف آرا پائی جاتی ہیں۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ پی ٹی آئی کے ایک گروپ نے سابق وزیراعلیٰ علی امین گنڈاپور کو دوبارہ اس عہدے پر لانے کے لیے لابنگ شروع کردی ہے۔ اس گروپ سے وابستہ 30 سے زائد ارکان اسمبلی علی امین گنڈاپور کو دوبارہ صوبے کا چیف ایگزیکٹو بنانے کے خواہش مند ہیں۔
دوسری جانب پارٹی کے بعض اہم مرکزی رہنماؤں کی خواہش ہے کہ نئے وزیراعلیٰ کا تعلق بونیر یا ہزارہ سے ہو۔ اس صورتحال میں نئے وزیراعلیٰ کے انتخاب کا معاملہ پارٹی کے اندر مشاورت اور اتفاق رائے کے لیے اہم بن گیا ہے۔
بانی پی ٹی آئی سے مشاورت کے بعد حتمی فیصلے کا امکان
ذرائع کے مطابق بانی پی ٹی آئی سے مشاورت نہ ہونے کی صورت میں نئے وزیراعلیٰ کا انتخاب عارضی نوعیت کا ہوسکتا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ جب تک بانی پی ٹی آئی سے ملاقات نہیں ہوتی، پارلیمانی پارٹی کی جانب سے منتخب کیا گیا شخص ہی وزیراعلیٰ کے عہدے پر برقرار رہے گا۔
ذرائع نے مزید بتایا کہ پی ٹی آئی کے متعدد ارکان اسمبلی نے آپس میں رابطے برقرار رکھنے کے لیے ایک الگ واٹس ایپ گروپ بھی بنایا ہے۔ اس گروپ کے ذریعے ارکان اسمبلی وزیراعلیٰ کے انتخاب سمیت دیگر سیاسی معاملات پر ایک دوسرے سے رابطے میں رہتے ہیں۔
خیبرپختونخوا میں اہم فیصلہ، ڈپٹی کمشنرز کو گرفتاری اور نظر بندی کے اختیارات تفویض
پارٹی کے اندر مختلف امیدواروں کی حمایت کی اطلاعات کے باوجود حتمی فیصلہ سامنے نہیں آیا۔ اس لیے وزیراعلیٰ کے انتخاب کے معاملے میں بانی پی ٹی آئی کی رائے اور پارٹی قیادت کی مشاورت کو اہم قرار دیا جارہا ہے۔
شوکت یوسفزئی نے گروپ بندی کی تردید کردی
دوسری جانب پی ٹی آئی خیبرپختونخوا کے ترجمان شوکت یوسفزئی نے جیو نیوز سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ صوبے کے نئے وزیراعلیٰ کے حوالے سے تاحال کوئی فیصلہ نہیں کیا گیا۔
ان کا کہنا تھا کہ اگر سہیل آفریدی نااہل قرار پاتے ہیں تو پارٹی قیادت باہمی مشاورت کے بعد نئے وزیراعلیٰ کے نام کا فیصلہ کرے گی۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ صوبے کی نمائندگی کے لیے علی امین گنڈاپور کا نام پارلیمانی پارٹی نے پیش کیا تھا۔
شوکت یوسفزئی نے پارٹی میں گروپ بندی کی اطلاعات کی تردید کرتے ہوئے کہا کہ ارکان اسمبلی نے واٹس ایپ گروپ صرف ایک دوسرے کے ساتھ رابطے بحال رکھنے کے لیے بنایا ہے۔
وزیراعلیٰ کے انتخاب پر پارٹی قیادت کی مشاورت اہم
خیبرپختونخوا میں وزیراعلیٰ کے انتخاب کے معاملے پر سامنے آنے والی مختلف آرا سے ظاہر ہوتا ہے کہ پارٹی کے اندر امیدوار کے انتخاب کے حوالے سے مشاورت اہمیت اختیار کرچکی ہے۔ ایک طرف علی امین گنڈاپور کی حمایت کرنے والے ارکان موجود ہیں تو دوسری جانب بعض رہنما مختلف علاقوں سے امیدوار منتخب کرنے کے خواہش مند ہیں۔
تاہم، پارٹی ترجمان نے واضح کیا ہے کہ نئے وزیراعلیٰ کے بارے میں کوئی حتمی فیصلہ نہیں ہوا۔ اب اس معاملے میں آئندہ پیش رفت کا انحصار پارٹی قیادت کی مشاورت، پارلیمانی پارٹی کے مؤقف اور دستیاب سیاسی صورت حال پر ہوگا۔
