پاکستان نے سلامتی کونسل میں ویٹو پاور بڑھانے کی مخالفت کردی

تازہ ترین خبروں اور تبصروں کیلئے ہمارا وٹس ایپ چینل جوائن کریں

پاکستان نے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں ویٹو پاور کو مزید ممالک تک وسعت دینے کی مخالفت کرتے ہوئے جامع، جمہوری اور منصفانہ اصلاحات پر زور دیا ہے۔ پاکستان نے ویٹو کے استعمال پر پابندیوں اور اس کے خاتمے کی حمایت بھی دہرائی ہے۔

latest urdu news

پاکستان نے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں اصلاحات کے حوالے سے اپنے مؤقف کا اعادہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ ویٹو پاور میں توسیع سے عالمی ادارے میں عدم مساوات مزید گہری ہوسکتی ہے۔ پاکستان نے نئے مستقل ارکان کو شامل کرنے اور انہیں ویٹو کا اختیار دینے کی مخالفت کرتے ہوئے مطالبہ کیا ہے کہ سلامتی کونسل میں اصلاحات تمام ممالک کے لیے یکساں اور منصفانہ بنیادوں پر کی جائیں۔

اقوام متحدہ میں پاکستان کے مستقل مشن کے قونصلر گل قیصر سروانی نے اس حوالے سے پاکستان کا مؤقف پیش کرتے ہوئے کہا کہ سلامتی کونسل میں اصلاحات کے دوران تمام رکن ممالک کے مفادات، نمائندگی اور مساوی حقوق کو مدنظر رکھنا ضروری ہے۔

ویٹو پاور میں توسیع سے عدم مساوات بڑھنے کا خدشہ

گل قیصر سروانی کے مطابق پاکستان نئے مستقل ارکان کی شمولیت اور ویٹو کے استحقاق کو مزید ممالک تک وسعت دینے کی مخالفت کرتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ویٹو پاور میں توسیع سے سلامتی کونسل میں موجود عدم مساوات مزید گہری ہوسکتی ہے۔

واضح رہے کہ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل بین الاقوامی امن و سلامتی برقرار رکھنے کی بنیادی ذمہ داری ادا کرتی ہے۔ اس کے پانچ مستقل ارکان، امریکا، برطانیہ، فرانس، روس اور چین، کو ویٹو کا خصوصی اختیار حاصل ہے۔ اس اختیار کے تحت کوئی بھی مستقل رکن کسی اہم غیر طریقہ کار قرارداد کو مسترد کرسکتا ہے، چاہے اسے دیگر ارکان کی حمایت حاصل ہو۔

ویٹو پاور کا یہی نظام طویل عرصے سے سلامتی کونسل میں اصلاحات کے مباحث کا اہم موضوع رہا ہے۔ متعدد ممالک کا مؤقف ہے کہ عالمی طاقتوں کے درمیان اختیارات کی تقسیم کو زیادہ متوازن بنانے اور مختلف خطوں کی نمائندگی بڑھانے کی ضرورت ہے۔

پاکستان ویٹو پاور کے خاتمے کا حامی

پاکستانی نمائندے نے کہا کہ پاکستان ویٹو پاور کے خاتمے یا اس کے استعمال پر سخت پابندیاں عائد کرنے کی حمایت کرتا ہے۔ ان کے مطابق ویٹو کے اختیار کا ناجائز استعمال اقوام متحدہ کی ساکھ کو نقصان پہنچاتا ہے اور عالمی مسائل کے حل کی کوششوں کو متاثر کرسکتا ہے۔

پاکستان کا مؤقف ہے کہ سلامتی کونسل میں کسی ایک یا چند ممالک کو غیر معمولی اختیارات دینے کے بجائے ایسا نظام تشکیل دیا جانا چاہیے جس میں اجتماعی فیصلہ سازی اور تمام رکن ممالک کے مفادات کو اہمیت حاصل ہو۔

اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں ٹرمپ کے غزہ منصوبے کی حمایت میں قرارداد منظور

پاکستان نے ویٹو کے استعمال کے بعد اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں بحث کے انعقاد کی حمایت کا بھی اعادہ کیا۔ اس اقدام کا مقصد ویٹو کے ذریعے کسی قرارداد کو روکنے کے بعد معاملے پر وسیع تر بین الاقوامی بحث کا موقع فراہم کرنا ہے۔

سلامتی کونسل میں منتخب ارکان کی نمائندگی بڑھانے پر زور

گل قیصر سروانی نے کہا کہ سلامتی کونسل میں منتخب ارکان کی تعداد، نمائندگی اور کردار میں اضافہ کیا جانا چاہیے۔ پاکستان کے مطابق کونسل کی اصلاحات کا مقصد صرف مستقل ارکان کی تعداد بڑھانا نہیں، بلکہ اس کی مجموعی ساخت کو زیادہ نمائندہ، جمہوری اور مؤثر بنانا ہونا چاہیے۔

انہوں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ سلامتی کونسل میں اصلاحات کے پانچوں اہم نکات پر ایک جامع پیکج کے تحت بیک وقت فیصلے کیے جائیں۔ پاکستان کا مؤقف ہے کہ اصلاحات کے مختلف پہلوؤں کو الگ الگ دیکھنے کے بجائے ان پر مجموعی طور پر اتفاق رائے پیدا کرنے کی کوشش کی جائے۔

اصلاحات میں تمام ممالک کے لیے یکساں اصول ضروری

پاکستانی نمائندے کے مطابق سلامتی کونسل میں اصلاحات ایسی ہونی چاہئیں جن سے تمام رکن ممالک کو فائدہ پہنچے اور کسی ملک کو خصوصی مراعات حاصل نہ ہوں۔

پاکستان کا یہ مؤقف اقوام متحدہ کے اس وسیع تر مباحثے کا حصہ ہے جس میں سلامتی کونسل کی ساخت، مستقل اور غیر مستقل ارکان کی تعداد، علاقائی نمائندگی اور ویٹو پاور کے مستقبل پر غور کیا جارہا ہے۔

پاکستان نے واضح کیا ہے کہ سلامتی کونسل کو زیادہ مؤثر اور منصفانہ بنانے کے لیے ضروری ہے کہ اصلاحات کسی ایک گروہ یا مخصوص ممالک کے مفادات تک محدود نہ رہیں، بلکہ ان میں تمام رکن ممالک کی نمائندگی اور اجتماعی مفادات کو اہمیت دی جائے۔

شیئر کریں:

ہمیں فالو کریں