اقوام متحدہ کے مقرر کردہ خودمختار تحقیقاتی کمیشن نے اپنی تازہ رپورٹ میں کہا ہے کہ اسرائیلی فورسز نے مقبوضہ مغربی کنارے میں انسانیت کے خلاف جرائم اور جنگی جرائم کا ارتکاب کیا۔ رپورٹ کے مطابق فلسطینی شہریوں کے قتل، تشدد، جنسی تشدد، گھروں کی تباہی اور جبری بے دخلی سے متعلق شواہد ایک وسیع اور منظم حملے کی نشاندہی کرتے ہیں۔ کمیشن نے غزہ میں فلسطینیوں کی نسل کشی سے متعلق اپنے سابقہ مؤقف کا بھی حوالہ دیا ہے۔
مغربی کنارے میں فلسطینیوں کے خلاف منظم حملے کا الزام
اقوام متحدہ کے خودمختار بین الاقوامی کمیشن آف انکوائری کے مطابق، مقبوضہ مغربی کنارے میں اسرائیلی فوجی کارروائیوں اور آباد کاروں کے مسلسل تشدد کے ذریعے فلسطینی شہریوں کو نشانہ بنایا گیا۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ اسرائیلی حکام اور فورسز نے قتل، تشدد، عصمت دری اور دیگر جنسی تشدد سمیت انسانیت کے خلاف جرائم کا ارتکاب کیا۔ کمیشن نے شہریت، نسل اور قومیت کی بنیاد پر امتیازی سلوک اور ظلم و ستم کے الزامات بھی عائد کیے ہیں۔
تفتیش کاروں کے مطابق مغربی کنارے کے مختلف علاقوں میں فلسطینی شہریوں کو نشانہ بنانے کے واقعات میں اعلیٰ سطح کی ہم آہنگی اور منظم منصوبہ بندی دکھائی دیتی ہے، جو رپورٹ کے بقول ریاستی پالیسی کا نتیجہ ہے۔
آباد کاروں کے تشدد اور بے دخلی پر تشویش
رپورٹ میں اسرائیلی حکام کے طرز عمل کا جائزہ لیتے ہوئے کہا گیا ہے کہ حکام کو علم تھا کہ آباد کاروں کا تشدد فلسطینیوں کے خلاف وسیع اور منظم حملے کا حصہ ہے، اور کمیشن نے اس تشدد کے حوالے سے حکام کے ارادے پر بھی سوالات اٹھائے ہیں۔
کمیشن کے چیئرمین سری نواسن مرلیدھر نے کہا کہ فلسطینی شہریوں کو جان بوجھ کر قتل یا زخمی کرنا اور ان کے گھروں کو تباہ کرنا ایک وسیع تر حکمت عملی کا حصہ ہے، جس کے نتیجے میں فلسطینیوں کی بے دخلی اور ان کے لیے ناقابل برداشت حالات پیدا ہوتے ہیں۔
اسرائیلی فوج کا پاسدارانِ انقلاب کی قدس فورس کے اہم عہدیدار کو شہید کرنے کا دعویٰ
انہوں نے مزید کہا کہ فلسطینیوں کے حق خودارادیت کو اسرائیل کے وجود کے لیے خطرہ قرار دینے سے اس حق کی تکمیل کی کوششوں میں رکاوٹ پیدا ہوتی ہے۔
رپورٹ میں ایسے واقعات کا بھی ذکر کیا گیا ہے جن کے بارے میں کمیشن نے نتیجہ اخذ کیا کہ اسرائیلی فورسز کا ارادہ شہریوں کو شدید نقصان پہنچانے یا قتل کرنے کا تھا۔ کمیشن کے مطابق ایسے واقعات جنگی جرائم کے زمرے میں آ سکتے ہیں۔
غزہ میں نسل کشی سے متعلق سابقہ رپورٹ کا حوالہ
تین رکنی تحقیقاتی کمیشن 2021 میں اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کونسل نے قائم کیا تھا۔ کمیشن نے ستمبر 2025 میں جاری اپنی ایک سابقہ رپورٹ میں یہ نتیجہ اخذ کیا تھا کہ 7 اکتوبر 2023 کے بعد غزہ میں اسرائیل نے نسل کشی کا ارتکاب کیا۔
تازہ رپورٹ میں اکتوبر 2023 کے بعد اسرائیلی اور فلسطینی سکیورٹی فورسز کی کارروائیوں کے نتیجے میں ہونے والی ہلاکتوں اور جسمانی و ذہنی نقصانات کا بھی جائزہ لیا گیا ہے۔
فلسطینی اتھارٹی کے کردار پر بھی تنقید
رپورٹ میں فلسطینی اتھارٹی کے طرز عمل پر بھی سوالات اٹھائے گئے ہیں۔ کمیشن کے مطابق مخالف فلسطینی مسلح گروپوں کے ارکان کو ریاستی تشدد کا نشانہ بنایا گیا، جبکہ شہری اور سیاسی اختلاف رکھنے والے فلسطینیوں کے خلاف کارروائیوں سے سیاسی مخالفت کو دبانے کے خدشات پیدا ہوئے۔
کمیشن نے کہا کہ فلسطینی اتھارٹی ساکھ اور قانونی حیثیت کے مسائل سے دوچار ہے اور ہلاکتوں کے واقعات کی فوری، مؤثر اور غیر جانبدارانہ تحقیقات کرنے میں بھی ناکام رہی ہے۔
رپورٹ میں اسرائیلی فورسز اور فلسطینی اتھارٹی سے متعلق نتائج پیش کیے گئے ہیں، تاہم فراہم کردہ متن میں اسرائیلی حکام یا فلسطینی اتھارٹی کا ان الزامات پر ردعمل شامل نہیں ہے۔
