مانیٹری پالیسی کا اعلان، اسٹیٹ بینک نے شرح سود بڑھا کر 12 فیصد کردی

تازہ ترین خبروں اور تبصروں کیلئے ہمارا وٹس ایپ چینل جوائن کریں

کراچی: اسٹیٹ بینک آف پاکستان نے نئی مانیٹری پالیسی کا اعلان کرتے ہوئے شرح سود میں 50 بیسز پوائنٹس کا اضافہ کردیا ہے، جس کے بعد شرح سود 11.5 فیصد سے بڑھ کر 12 فیصد ہوگئی ہے۔

latest urdu news

گورنر اسٹیٹ بینک جمیل احمد نے پریس کانفرنس کے دوران نئی مانیٹری پالیسی کے اہم فیصلے سے آگاہ کیا۔ ان کے مطابق شرح سود میں اضافے کا فیصلہ مہنگائی کی شرح میں مسلسل اضافے اور تیل کی قیمتوں میں بڑھوتری کے اثرات کو مدنظر رکھتے ہوئے کیا گیا ہے۔

شرح سود میں اضافے کا فیصلہ کیوں کیا گیا؟

گورنر اسٹیٹ بینک جمیل احمد نے بتایا کہ ملک میں مہنگائی کی شرح مسلسل بڑھ رہی ہے، جبکہ تیل کی قیمتوں میں اضافے نے بھی معاشی صورت حال پر اثر ڈالا ہے۔ ان عوامل کے پیش نظر شرح سود میں 50 بیسز پوائنٹس کا اضافہ کیا گیا ہے۔

اس فیصلے کے نتیجے میں پالیسی ریٹ 11.5 فیصد سے بڑھ کر 12 فیصد ہوگیا ہے۔ مانیٹری پالیسی کے ذریعے اسٹیٹ بینک مہنگائی پر قابو پانے اور معاشی صورت حال کو مستحکم رکھنے کے لیے شرح سود میں ردوبدل کرتا ہے۔

اسٹیٹ بینک کا شرح سود 10.50 فیصد پر برقرار رکھنے کا فیصلہ

شرح سود بڑھنے سے کیا اثرات مرتب ہوسکتے ہیں؟

شرح سود میں اضافے سے بینکوں سے قرض حاصل کرنا مہنگا ہوسکتا ہے، جس کے نتیجے میں کاروباری اداروں اور صارفین کے لیے قرضوں کی لاگت بڑھنے کا امکان ہوتا ہے۔ اس کے علاوہ کاروباری سرمایہ کاری اور اخراجات پر بھی اثر پڑ سکتا ہے۔

دوسری جانب بلند شرح سود کا مقصد قرضوں اور اخراجات کی طلب کو محدود کرکے مہنگائی کے دباؤ میں کمی لانا ہوتا ہے۔ تاہم اس فیصلے کے عملی اثرات کا انحصار مہنگائی، تیل کی قیمتوں اور مجموعی معاشی حالات پر ہوگا۔

اسٹیٹ بینک کی جانب سے شرح سود میں اضافے کا اعلان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب گورنر کے مطابق مہنگائی میں مسلسل اضافہ ہورہا ہے اور تیل کی قیمتوں میں بڑھوتری بھی اس پر اثرانداز ہوئی ہے۔

شیئر کریں:

ہمیں فالو کریں