ممبئی میں احتجاج کے دوران بالی وڈ اداکار عمران خان گرفتار، پولیس وین سے طنزیہ سیلفی بھی شیئر کردی

تازہ ترین خبروں اور تبصروں کیلئے ہمارا وٹس ایپ چینل جوائن کریں

بالی وڈ اداکار عمران خان کو بھارت کے شہر ممبئی میں کاکروچ جنتا پارٹی (سی جے پی) کے احتجاج میں شرکت کے دوران پولیس نے حراست میں لے لیا۔ 43 سالہ اداکار نے پولیس وین میں موجودگی کے دوران سوشل میڈیا پر ایک سیلفی بھی شیئر کی، جس کے ساتھ طنزیہ انداز میں لکھا کہ وہ ’’ڈرائیو پر جا رہے ہیں‘‘۔

latest urdu news

احتجاج کی اجازت نہ لینے پر پولیس کی کارروائی

بھارتی میڈیا رپورٹس کے مطابق عمران خان کو 10 اکتوبر کو ممبئی کے کرانتی میدان سے حراست میں لیا گیا۔ ممبئی پولیس حکام کا کہنا ہے کہ احتجاج کے لیے باضابطہ اجازت حاصل نہیں کی گئی تھی۔

پولیس کے مطابق ممبئی ہائی کورٹ کے احکامات کے تحت شہر میں احتجاج کے لیے صرف آزاد میدان مقرر کیا گیا ہے۔ اسی بنیاد پر کرانتی میدان میں ہونے والے احتجاج کے خلاف کارروائی کی گئی۔

دوسری جانب کاکروچ جنتا پارٹی کی انتظامیہ کا مؤقف ہے کہ انہوں نے احتجاج کی اجازت حاصل کرنے کے لیے ای میل کے ذریعے درخواست بھیجی تھی، تاہم پولیس کی جانب سے انہیں کوئی جواب موصول نہیں ہوا۔

عمران خان کی طنزیہ سیلفی سوشل میڈیا پر توجہ کا مرکز

پولیس کی حراست میں لیے جانے کے بعد اداکار عمران خان نے پولیس وین سے اپنی سیلفی شیئر کی۔ تصویر کے ساتھ ان کا طنزیہ کیپشن ’’میں ڈرائیو پر جا رہا ہوں‘‘ تھا، جسے ان کی گرفتاری کے تناظر میں دیکھا گیا۔

43 سالہ اداکار ماضی میں بھی سماجی اور سیاسی مسائل پر اپنی رائے کا اظہار کرتے رہے ہیں۔ وہ آرٹ، سیاست اور طلبہ کے خلاف پولیس تشدد جیسے معاملات پر بھی آواز اٹھا چکے ہیں۔

کاکروچ جنتا پارٹی کے سوشل میڈیا اکاؤنٹس نشانے پر، بانی نے ہیکنگ کا الزام لگا دیا

نئی دہلی میں بھی احتجاج، 1500 افراد حراست میں

رپورٹس کے مطابق انتخابی فہرستوں کے معاملے پر جاری احتجاج کے سلسلے میں نئی دہلی میں بھی مظاہرہ کیا گیا، جس کے دوران سابق وزیراعلیٰ اروند کیجریوال، مغربی بنگال کی وزیراعلیٰ ممتا بینرجی اور دیگر افراد سمیت تقریباً 1500 افراد کو حراست میں لیا گیا۔

کاکروچ جنتا پارٹی انتخابی فہرستوں میں مبینہ دھاندلی کے خلاف احتجاج کر رہی ہے اور اس نے چیف الیکشن کمشنر کے استعفے کا مطالبہ کیا ہے۔

انتخابی فہرستوں پر تنازع کیا ہے؟

بھارتی میڈیا رپورٹس کے مطابق الیکشن کمیشن کے اندر انتخابی فہرستوں سے متعلق معاملات پر اختلافات موجود ہیں۔ رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ گزشتہ 10 ماہ کے دوران دیگر حکام نے چیف الیکشن کمشنر کے 14 فیصلوں پر اعتراضات اٹھائے۔

تاہم انتخابی فہرستوں میں مبینہ دھاندلی اور کمیشن کے اندر اختلافات سے متعلق دعوؤں کی نوعیت اور ان کے شواہد کو الگ الگ دیکھنا ضروری ہے۔

ممبئی اور نئی دہلی میں احتجاج کے واقعات نے بھارت میں انتخابی عمل، مظاہروں کی اجازت اور سیاسی اختلاف کے اظہار سے متعلق بحث کو مزید نمایاں کر دیا ہے۔

شیئر کریں:

ہمیں فالو کریں