سپرنٹنڈنٹ اڈیالہ جیل کا گنجائش سے زائد قیدیوں کی موجودگی کا اعتراف

تازہ ترین خبروں اور تبصروں کیلئے ہمارا وٹس ایپ چینل جوائن کریں

راولپنڈی کی اڈیالہ جیل میں گنجائش سے زیادہ قیدیوں کی موجودگی کا مسئلہ برقرار ہے، جیل کے سپرنٹنڈنٹ ساجد بیگ نے بھی اس صورتحال کا اعتراف کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس وقت جیل میں تقریباً 8 ہزار قیدی موجود ہیں۔

latest urdu news

سپرنٹنڈنٹ اڈیالہ جیل کے مطابق قیدیوں کی بڑھتی ہوئی تعداد جیل انتظامیہ کے لیے ایک اہم مسئلہ ہے، تاہم حکومت اس معاملے پر غور کررہی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ اسلام آباد میں نئی جیل کی تعمیر مکمل ہونے کے بعد اڈیالہ جیل پر قیدیوں کا دباؤ تقریباً نصف کم ہوسکتا ہے۔

اڈیالہ جیل میں تقریباً 8 ہزار قیدی موجود

ساجد بیگ نے بتایا کہ اڈیالہ جیل میں اس وقت تقریباً 8 ہزار قیدی موجود ہیں۔ ان کے مطابق جیل میں گنجائش سے زیادہ قیدیوں کی موجودگی ایک بڑا انتظامی مسئلہ ہے۔

قیدیوں کی تعداد میں اضافے کے باعث ملک کی مختلف جیلوں کو گنجائش سے زیادہ افراد رکھنے کے مسائل کا سامنا ہے۔ اڈیالہ جیل کے سپرنٹنڈنٹ کے مطابق حکومت بھی جیلوں میں بڑھتی ہوئی آبادی کے مسئلے پر غور کررہی ہے تاکہ قیدیوں کو مناسب سہولیات فراہم کرنے کے ساتھ ساتھ جیلوں پر بڑھتے ہوئے دباؤ کو کم کیا جاسکے۔

نئی اسلام آباد جیل سے بوجھ کم ہونے کی توقع

ساجد بیگ کا کہنا تھا کہ اسلام آباد میں نئی جیل کی تعمیر سے اڈیالہ جیل میں موجود قیدیوں کی تعداد میں نمایاں کمی متوقع ہے۔

ان کے مطابق نئی جیل مکمل ہونے کے بعد اڈیالہ جیل پر قیدیوں کا تقریباً آدھا بوجھ کم ہوسکتا ہے، جس سے موجودہ گنجائش سے زیادہ قیدیوں کے مسئلے پر قابو پانے میں مدد ملے گی۔

نئی جیل کی تعمیر کو قیدیوں کی بڑھتی ہوئی تعداد سے پیدا ہونے والے دباؤ کو کم کرنے کے لیے ایک اہم اقدام قرار دیا جارہا ہے۔

قیدیوں کے حقوق پر سمجھوتا نہیں کیا جاتا

سپرنٹنڈنٹ اڈیالہ جیل نے کہا کہ جیل میں قیدیوں کے بنیادی حقوق کا خیال رکھا جاتا ہے اور اس معاملے پر کوئی سمجھوتا نہیں کیا جاتا۔

انہوں نے بتایا کہ جوڈیشل افسران بھی باقاعدگی سے اڈیالہ جیل کا دورہ کرتے ہیں اور جیل میں قیدیوں کو فراہم کی جانے والی سہولیات کا جائزہ لیتے ہیں۔

ساجد بیگ کے مطابق جیل انتظامیہ کی جانب سے قیدیوں کے لیے صحت سمیت مختلف بنیادی سہولیات فراہم کرنے پر توجہ دی جاتی ہے۔

اڈیالہ جیل میں عمران خان اور بشریٰ بی بی کی خصوصی ملاقات، دیگر ملاقاتوں کی اجازت نہ مل سکی

اڈیالہ جیل میں طبی سہولیات کا نظام

سپرنٹنڈنٹ کے مطابق اڈیالہ جیل میں مجموعی طور پر 6 مرد اور ایک خاتون ڈاکٹر تعینات ہیں۔

انہوں نے بتایا کہ جیل میں قیدیوں کے لیے ای سی جی، الٹراساؤنڈ، ڈینٹل اور دیگر طبی سہولیات بھی دستیاب ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ اڈیالہ جیل میں فراہم کی جانے والی طبی سہولیات اس قدر وسیع ہیں کہ ممکن ہے ایسی سہولیات بعض قیدیوں کو جیل سے باہر بھی دستیاب نہ ہوں۔

جیل میں موجود قیدیوں کی صحت کی نگرانی اور مختلف بیماریوں کے علاج کے لیے طبی عملہ اور ضروری سہولیات فراہم کی جاتی ہیں۔

اڈیالہ جیل میں ایچ آئی وی کے تقریباً 100 کیسز

ساجد بیگ نے بتایا کہ اڈیالہ جیل میں ایچ آئی وی کے تقریباً 100 کیسز موجود ہیں۔

ان کے مطابق ایچ آئی وی کے بیشتر کیسز ایسے ہیں جن میں قیدی یہ بیماری جیل میں داخل ہونے سے پہلے ہی اپنے ساتھ لے کر آئے تھے۔ اس حوالے سے جیل میں موجود مریضوں کو طبی سہولیات فراہم کی جاتی ہیں اور ان کی صحت کی نگرانی کی جاتی ہے۔

اڈیالہ جیل میں قیدیوں کی تعداد میں اضافے کے ساتھ صحت اور رہائش سے متعلق سہولیات پر دباؤ بھی بڑھ رہا ہے، تاہم جیل انتظامیہ کے مطابق قیدیوں کے حقوق اور طبی ضروریات پوری کرنے کے لیے دستیاب وسائل کو بروئے کار لایا جارہا ہے۔

شیئر کریں:

ہمیں فالو کریں