پشاور ہائیکورٹ نے پی ٹی آئی کے لانگ مارچ سے متعلق درخواست پر فوری عبوری ریلیف دینے سے انکار کرتے ہوئے سماعت کل تک ملتوی کردی۔ عدالت نے قرار دیا کہ تمام فریقین کا مؤقف سنے بغیر عبوری ریلیف نہیں دیا جاسکتا۔
پی ٹی آئی ارکان کی درخواست پر سماعت
پشاور ہائیکورٹ میں پی ٹی آئی کے ارکانِ قومی اسمبلی کی جانب سے لانگ مارچ کے راستے میں ممکنہ رکاوٹوں کے خلاف دائر درخواست پر سماعت ہوئی۔
درخواست گزاروں میں پی ٹی آئی کے ارکان قومی اسمبلی شاندانہ گلزار، شہریار آفریدی اور آصف خان شامل ہیں۔ ان کی جانب سے وکیل معظم بٹ عدالت میں پیش ہوئے۔
وکیل نے مؤقف اختیار کیا کہ لانگ مارچ درخواست گزاروں کے حلقوں سے بھی گزرے گا اور وہ قانون کے مطابق اسے خوش آمدید کہنا چاہتے ہیں۔ انہوں نے عدالت سے استدعا کی کہ لانگ مارچ کے راستے میں ممکنہ رکاوٹیں کھڑی نہ کرنے کی ہدایت کی جائے۔
فریقین کو سنے بغیر ریلیف نہیں دے سکتے، عدالت
سماعت کے دوران جسٹس صاحبزادہ اسد اللہ نے واضح کیا کہ تمام فریقین کو سنے بغیر درخواست گزاروں کو عبوری ریلیف نہیں دیا جاسکتا۔
درخواست گزاروں کے وکیل نے مؤقف اختیار کیا کہ لانگ مارچ جاری ہے اور ممکنہ رکاوٹوں کے باعث درخواست گزاروں کو مشکلات کا سامنا ہوسکتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ احتجاج آئین اور قانون کے دائرے میں رہتے ہوئے کیا جائے گا، اس لیے راستے میں غیر ضروری رکاوٹیں پیدا نہ کی جائیں۔
وکیل نے عدالت سے استدعا کی کہ متعلقہ اداروں کو لانگ مارچ کے راستے میں رکاوٹیں کھڑی کرنے سے روکا جائے۔
ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے درخواست کے قابلِ سماعت ہونے پر سوال اٹھا دیا
سماعت کے دوران ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے درخواست کی مخالفت کرتے ہوئے مؤقف اختیار کیا کہ یہ درخواست قابلِ سماعت نہیں، کیونکہ لانگ مارچ سے متعلق اسلام آباد ہائیکورٹ کا حکم پہلے ہی سامنے آچکا ہے۔
انہوں نے عدالت کو بتایا کہ اس معاملے پر متعلقہ عدالتی حکم موجود ہے، اس لیے درخواست پر مزید کارروائی سے پہلے اس قانونی پہلو کو بھی مدنظر رکھا جانا چاہیے۔
ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے عدالت سے استدعا کی کہ انہیں تیاری کے لیے مزید وقت دیا جائے اور معاملے کو اگلے روز تک ملتوی کیا جائے۔
سماعت کل تک ملتوی
فریقین کے دلائل سننے کے بعد پشاور ہائیکورٹ نے درخواست پر فوری عبوری ریلیف دینے سے انکار کردیا اور سماعت کل تک ملتوی کردی۔
عدالت کی جانب سے عبوری ریلیف نہ دینے کے بعد درخواست پر آئندہ سماعت میں فریقین کے مزید مؤقف اور قانونی نکات سامنے آنے کا امکان ہے۔
یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب پی ٹی آئی کا لانگ مارچ اسلام آباد کی جانب جاری ہے اور حکومت کی جانب سے اسلام آباد میں احتجاجی اجتماع کی اجازت نہ دینے کا مؤقف سامنے آچکا ہے۔
