خیبرپختونخوا کے وزیراعلیٰ نے کہا ہے کہ مسودے میں کوئی مطالبہ غیر آئینی یا غیر قانونی نہیں، جبکہ لانگ مارچ کی منسوخی کو وفاقی حکومت کی تحریری یقین دہانی سے مشروط کیا گیا ہے۔
خیبرپختونخوا کے وزیراعلیٰ سہیل آفریدی نے حکومت اور اپوزیشن کے درمیان مذاکرات کے لیے پیش کیا گیا 7 نکاتی ڈرافٹ عوام کے سامنے جاری کردیا ہے۔ انہوں نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر بیان میں کہا کہ مسودے میں شامل کوئی بھی مطالبہ غیر آئینی یا غیر قانونی نہیں۔
یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب حکومت اور پاکستان تحریک انصاف کے درمیان مذاکرات میں کئی معاملات پر پیش رفت کے باوجود حتمی اتفاق رائے نہیں ہوسکا اور لانگ مارچ کا معاملہ بدستور اہم نکتہ بنا ہوا ہے۔
سیاسی معاملات مذاکرات سے حل کرنے کی تجویز
ڈرافٹ کے پہلے نکتے میں وزیراعظم اور قومی اسمبلی و سینیٹ میں قائدینِ حزب اختلاف کے درمیان باقاعدہ ملاقات کی تجویز دی گئی ہے۔ اس ملاقات میں اہم سیاسی، قومی، آئینی، قانونی اور جمہوری معاملات، خصوصاً زیرِ التوا امور پر تفصیلی تبادلہ خیال کرنے کی بات کی گئی ہے۔
مسودے کے مطابق فریقین باہمی مشاورت اور مذاکرات کے ذریعے ان معاملات کے حل کی جانب دو ماہ کے اندر مؤثر اور قابلِ عمل پیش رفت یقینی بنائیں گے۔
دوسرے نکتے میں وزیراعظم کی جانب سے حکومتی اتحاد، پاکستان پیپلز پارٹی اور اپوزیشن جماعتوں کے نمائندوں پر مشتمل مشترکہ سیاسی مذاکراتی کمیٹی بنانے کی تجویز دی گئی ہے۔ کمیٹی قومی و سیاسی معاملات اور باہمی اختلافات پر مسلسل مذاکرات کرے گی اور ایک ماہ کے اندر قابلِ عمل سفارشات پیش کرے گی۔
عمران خان اور بشریٰ بی بی کے حقوق کا مطالبہ
ڈرافٹ میں سابق وزیراعظم عمران خان اور بشریٰ بی بی کو جیل مینول، آئین اور مروجہ قوانین کے مطابق قانونی، انسانی اور طبی حقوق فراہم کرنے کا مطالبہ کیا گیا ہے۔
مسودے میں ان کے اہل خانہ، نامزد وکلا اور مجاز افراد سے ملاقاتوں کی سہولت بھی جیل قوانین کے مطابق فراہم کرنے کی بات کی گئی ہے۔ ساتھ ہی یہ وضاحت بھی شامل ہے کہ ملاقات کی سہولت کو قانون کے خلاف سیاسی یا دیگر مقاصد کے لیے استعمال نہیں کیا جائے گا۔
دو خاندانوں کی سیاست عمران خان نے توڑی، چور ڈاکو جیل میں ڈیل کرتے تھے: سہیل آفریدی
سیاسی قیدیوں اور زیرِ التوا مقدمات کا معاملہ
ڈرافٹ میں عمران خان، بشریٰ بی بی اور دیگر زیرِ حراست افراد کے خلاف اپیلوں اور قانونی درخواستوں پر آئین و قانون کے مطابق کارروائی تیز کرنے کی تجویز بھی شامل ہے۔
اس کے علاوہ خواتین، بزرگ اور بیمار قیدیوں کے مقدمات میں غیر ضروری تاخیر ختم کرنے پر زور دیا گیا ہے۔ یاسمین راشد اور بشریٰ بی بی سمیت سیاسی مقدمات میں قید خواتین کو انسانی ہمدردی کی بنیاد پر رہائی دینے کی تجویز بھی مسودے کا حصہ ہے۔
خیبرپختونخوا میں امن و امان پر وفاق اور صوبے میں مشاورت
ڈرافٹ کے ایک اہم حصے میں خیبرپختونخوا میں دہشت گردی کے خاتمے، عوام کے جان و مال کے تحفظ اور پائیدار امن کے قیام کے لیے وفاقی اور صوبائی حکومتوں کے درمیان مسلسل اور بامعنی مشاورت کی تجویز دی گئی ہے۔
مسودے کے مطابق وفاقی اور صوبائی حکومتوں کے مجاز نمائندوں کا 72 گھنٹوں کے اندر اجلاس ہونا چاہیے، جس میں امن و امان کے لیے واضح اور قابلِ عمل حکمت عملی مرتب کی جائے۔ اس حکمت عملی پر آئین و قانون کے دائرے میں رہتے ہوئے عمل درآمد دونوں حکومتوں کی مشترکہ ذمہ داری قرار دیا گیا ہے۔
وفاقی یقین دہانی کے بعد لانگ مارچ منسوخ کرنے کی شرط
ڈرافٹ کے ساتویں اور آخری نکتے میں کہا گیا ہے کہ وفاقی حکومت کی جانب سے طے شدہ اقدامات پر مؤثر عمل درآمد کی تحریری یقین دہانی فراہم کیے جانے کے بعد پی ٹی آئی موجودہ لانگ مارچ منسوخ کرنے کا اعلان کرے گی۔
تاہم مسودے میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ اگر وفاقی حکومت یقین دہانیوں یا مذاکراتی عمل کی خلاف ورزی کرتی ہے، یا مذاکرات بلاجواز تعطل کا شکار ہوتے ہیں تو پی ٹی آئی آئین و قانون کے مطابق پرامن، جمہوری اور قانونی احتجاج کا حق محفوظ رکھے گی۔
دوسری جانب وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے مذاکرات کے آخری مرحلے میں خیبرپختونخوا حکومت کی جانب سے بعض سکیورٹی سے متعلق یقین دہانیوں سے پیچھے ہٹنے کا دعویٰ کیا ہے، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ فریقین کے درمیان بعض اہم نکات پر اختلافات تاحال برقرار ہیں۔
