تحریک انصاف اب کوئی وجود نہیں رکھتی، قیادت کو مذاکرات کا راستہ اپنانا چاہیے، محمود خان

تازہ ترین خبروں اور تبصروں کیلئے ہمارا وٹس ایپ چینل جوائن کریں

سابق وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا محمود خان نے کہا کہ پاکستان تحریک انصاف اب کوئی وجود نہیں رکھتی۔ ان کے مطابق تحریک انصاف کی موجودہ قیادت کو احتجاج کے بجائے مذاکرات کا راستہ اپنانا چاہیے۔

latest urdu news

ایک انٹرویو میں پاکستان تحریک انصاف پارلیمنٹیرینز (پی ٹی آئی پی) کے چیئرمین محمود خان نے کہا کہا کہ عدالتی مقدمات میں صرف تاریخیں بدلتی رہیں گی، اس لیے تحریک انصاف کی قیادت کو ہر صورت مذاکرات کا راستہ اختیار کرنا چاہیے۔

تحریک انصاف کے 27 ستمبر کے احتجاج کے حوالے سے محمود خان نے کہاکہ پارٹی رہنماؤں کو سمجھنا چاہیے کہ احتجاجی مظاہروں کے ذریعے عمران خان کی رہائی ممکن نہیں۔ اگر وہ لوگوں کو اکٹھا کر حالات خراب کریں گے تو اس کا نقصان بھی تحریک انصاف ہی کو ہوگا۔

محمود خان نے بتایا کہ اکتوبر 2025 میں جب عمران خان نے علی امین گنڈا پور کو ہٹایا تو وزیراعلیٰ کے لیے انہیں 3 نام پیش کیے گئے تھے۔ ان میں سے 2 ناموں سے عمران خان ذاتی طور پر واقف تھے، اس لیے انہوں نے انہیں پہلی فرصت میں مسترد کردیا۔

ان کے مطابق عمران خان سہیل آفریدی کو نہیں جانتے تھے، تاہم انہیں توقع تھی کہ یہ قبائلی نوجوان کچھ کر دکھائے گا، اس لیے انہوں نے سہیل آفریدی کے نام کا قرعہ نکالا۔

محمود خان کا کہنا تھا کہ ان کے علم کے مطابق سہیل آفریدی کو حکومتی امور چلانے کا کوئی تجربہ نہیں تھا۔ ان پر بہت زیادہ دباؤ تھا، جس کی وجہ سے انہیں کئی مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔ محمود خان نے یہ بھی کہا کہ انہوں نے سنا ہے کہ سہیل آفریدی کے بھائی اور ان کے دستِ راست نے بھی وزیراعلیٰ ہاؤس کو کمائی کا ذریعہ بنایا ہوا ہے۔

پی ٹی آئی والے ملک میں انتشار پھیلاکر سڑکیں بند کرنا چاہتے ہیں،عطاتارڑ

سابق وزیراعلیٰ محمود خان نے علی امین گنڈا پور پر شدید تنقید کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے 19 ماہ کے اقتدار کے دوران کچھ بھی ڈیلیور نہیں کیا۔ علی امین گنڈا پور کو وزیراعلیٰ بنانے کا بنیادی مقصد عمران خان کی رہائی تھا، لیکن وہ بیک وقت دونوں طرف کھیل رہے تھے۔

محمود خان کے مطابق جب عمران خان کو معلوم ہوا کہ علی امین گنڈا پور ان کے لیے نہیں بلکہ دوسرے فریق کے لیے کام کررہے ہیں تو انہیں عہدے سے ہٹا دیا گیا۔

افغان طالبان سے وابستہ افراد کی واپسی کا فیصلہ

محمود خان نے مزید بتایا کہ عمران خان کے اقتدار کے آخری دور میں ایک اِن کیمرہ اجلاس ہوا تھا، جس میں تمام وزرائے اعلیٰ اور شہباز شریف بھی بطور اپوزیشن لیڈر موجود تھے۔

ان کے مطابق اس اجلاس میں یہ بات کی گئی تھی کہ افغانستان میں موجود تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) سے وابستہ افراد کو واپس لایا جائے۔

محمود خان کا کہنا تھا کہ یہ فیصلہ صرف عمران خان کا نہیں تھا، بلکہ اس وقت کی تمام قیادت نے مل کر یہ فیصلہ کیا تھا۔ بعد میں افغانستان سے پاکستان آنے والے بہت سے افراد واپس چلے گئے۔

اسلام آباد پر دھاوا بولنے کی تیاری کی جارہی ہے، اس بار مستقل حل تلاش کریں گے، وزیر داخلہ

اسمبلیاں توڑنے کی بات شاہ محمود قریشی نے عمران خان کے کان میں ڈالی

پاکستان تحریک انصاف پارلیمنٹیرینز کے چیئرمین محمود خان نے کہا ہے کہ 2023 میں شاہ محمود قریشی نے عمران خان کے کان میں یہ بات ڈالی تھی کہ خیبرپختونخوا اسمبلی تحلیل کردی جائے۔ خیبرپختونخوا کی قیادت نے اس فیصلے کی مخالفت کی تھی، تاہم بعد میں فواد چوہدری اور پنجاب کی دیگر قیادت نے بھی عمران خان کو اسمبلی تحلیل کرنے پر آمادہ کرلیا۔

انہوں نے کہاکہ ہم چاہتے تھے کہ اگر اسمبلیاں تحلیل کرنا ضروری ہیں تو پہلے پنجاب اسمبلی تحلیل کی جائے۔ وہاں انتخابات کے نتائج کو سامنے رکھتے ہوئے بعد میں خیبرپختونخوا اسمبلی تحلیل کرنے کا فیصلہ کیا جاتا، لیکن ہماری ایک نہ سنی گئی۔

محمود خان نے کہاکہ 16 جولائی 2023 کو عمران خان کے ساتھ ان کا آخری رابطہ ہوا تھا۔ عمران خان نے انہیں پارٹی نہ چھوڑنے کا کہا، تاہم کچھ مجبوریاں ایسی تھیں جن کی وجہ سے انہیں تحریک انصاف چھوڑنا پڑی۔ ان کے بقول، اگر وہ پارٹی نہ چھوڑتے تو عمران خان اور انہیں، دونوں کو نقصان پہنچتا۔

شیئر کریں:

ہمیں فالو کریں

frontpage hit counter