جماعت اسلامی نے پیٹرولیم لیوی کے خاتمے کے مطالبے پر کراچی سے اسلام آباد کی جانب لانگ مارچ کا آغاز کر دیا ہے۔ جماعت اسلامی کے امیر حافظ نعیم الرحمان نے واضح کیا ہے کہ حکومت کی جانب سے پیٹرولیم لیوی ختم کیے جانے تک احتجاجی تحریک جاری رہے گی۔
کراچی سے اسلام آباد روانگی
جماعت اسلامی کا لانگ مارچ اتوار 20 ستمبر کو کراچی کینٹ اسٹیشن سے شروع ہوا، جہاں حافظ نعیم الرحمان نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے مارچ کے لائحہ عمل سے آگاہ کیا۔ ان کے مطابق قافلہ کراچی سے اسلام آباد کی جانب روانہ ہو رہا ہے اور اس کا پہلا پڑاؤ حیدرآباد میں ہوگا، جس کے بعد مارچ دیگر شہروں سے گزرتا ہوا وفاقی دارالحکومت کی طرف بڑھے گا۔
جماعت اسلامی نے اس احتجاج کو پیٹرولیم مصنوعات پر عائد لیوی کے خلاف اپنی جاری ملک گیر مہم کا حصہ قرار دیا ہے۔ پارٹی کی جانب سے اس سے قبل مختلف شہروں میں احتجاجی دھرنے اور دیگر سرگرمیاں بھی کی گئی ہیں۔
لیوی کے خاتمے تک احتجاج جاری رکھنے کا اعلان
حافظ نعیم الرحمان نے کہا کہ حکومت اگر پیٹرولیم لیوی ختم کر دیتی ہے تو جماعت اسلامی اپنا احتجاج ختم کر دے گی۔ ان کا کہنا تھا کہ وزرا عوام کو ریلیف دینے کی بات کرتے ہیں، تاہم جماعت اسلامی کے مطابق عملی طور پر عوام کو مطلوبہ ریلیف نہیں مل رہا۔
انہوں نے حکومت پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ موجودہ صورتحال میں حکومتی اقدامات عوام کو احتجاج کی طرف لے جا رہے ہیں۔ ان کے بقول جماعت اسلامی شدید گرمی میں احتجاج کرنے کی خواہش نہیں رکھتی بلکہ اس کی جدوجہد عوام کو مہنگے ایندھن سے ریلیف دلانے کے لیے ہے۔
امیر جماعت اسلامی کا 20 ستمبر اسلام آباد مارچ کا اعلان
جماعت اسلامی کے امیر نے عالمی مارکیٹ میں قیمتوں کو پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے کی حکومتی وجوہات میں شامل قرار دیے جانے پر بھی اعتراض کیا۔ دوسری جانب حکومت کی جانب سے حالیہ عرصے میں عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمتوں اور خطے کی صورتحال کو ایندھن کی قیمتوں میں اضافے کے عوامل میں شمار کیا گیا ہے۔
پیٹرولیم لیوی پر حکومت اور جماعت اسلامی میں مذاکرات
پیٹرولیم لیوی کے معاملے پر حکومت اور جماعت اسلامی کے درمیان مذاکرات کے کئی دور بھی ہو چکے ہیں، تاہم 19 ستمبر کو ہونے والے پانچویں دور میں بھی حتمی معاہدہ نہیں ہو سکا۔ جماعت اسلامی کا بنیادی مطالبہ لیوی کا خاتمہ ہے، جبکہ حکومت کی جانب سے ایندھن کے بڑھتے ہوئے مالی بوجھ کو کم کرنے کے لیے دیگر اقدامات بھی کیے گئے ہیں۔
حکومت نے رواں ماہ موٹر سائیکلوں، رکشوں، چنگ چی اور 800 سی سی تک کی گاڑیوں کے لیے فی لیٹر 100 روپے تک کے ریلیف پر مشتمل خصوصی اسکیم بھی متعارف کرائی ہے، تاہم جماعت اسلامی اسے لیوی کے خاتمے کا متبادل قرار دینے سے انکار کرتی ہے۔
دیگر شہروں سے قافلوں کی شرکت
حافظ نعیم الرحمان کے مطابق ملک کے مختلف علاقوں سے قافلے اسلام آباد پہنچیں گے۔ انہوں نے کہا کہ اگر مختلف مقامات سے آنے والے قافلے وفاقی دارالحکومت پہنچ گئے تو صورتحال کو روکنا مشکل ہو سکتا ہے۔
جماعت اسلامی کے مطابق اس لانگ مارچ کا مقصد پیٹرولیم لیوی اور دیگر ٹیکسز کے باعث ایندھن کی قیمتوں میں اضافے کے خلاف احتجاج اور حکومت سے عوام کو ریلیف دینے کا مطالبہ کرنا ہے۔ پارٹی نے پہلے ہی اعلان کر رکھا تھا کہ اس کا مارچ 20 ستمبر سے شروع ہوگا اور 23 سے 24 ستمبر کے دوران اسلام آباد پہنچنے کی توقع ہے۔
