امریکی ریاست نارتھ ڈکوٹا میں ایک رضاکار استاد نے کھدائی کے دوران چٹان میں محفوظ ایسے دیوہیکل قدموں کے نشانات دریافت کیے جنہیں سائنس دان ممکنہ طور پر ٹی ریکس سے جوڑ رہے ہیں۔
امریکی ریاست نارتھ ڈکوٹا میں ایک استاد نے محض باریک بینی سے مشاہدہ کرتے ہوئے کروڑوں سال پرانے ڈائنا سور کے قدموں کے نشانات دریافت کر لیے۔ یہ دریافت اس وقت ہوئی جب وہ قدیم آثار کی تلاش کے لیے ہونے والی ایک کھدائی میں رضاکارانہ طور پر حصہ لے رہے تھے۔
یہ واقعہ 2025 میں نارتھ ڈکوٹا کے علاقے مارمارتھ کے قریب ہیل کریک فارمیشن میں پیش آیا، جو ڈائنا سور کے فوسلز اور دیگر قدیم حیاتیاتی شواہد کے حوالے سے اہم سمجھا جاتا ہے۔
گھٹنوں کی سرجری نے دریافت کا راستہ ہموار کر دیا
کینٹ ہپس نامی استاد بھی اس کھدائی میں شامل تھے، تاہم اس وقت وہ گھٹنوں کی سرجری سے گزر چکے تھے اور ایک سخت ڈھلان پر چڑھنا ان کے لیے مشکل تھا۔ اسی وجہ سے انہوں نے اوپر جانے کے بجائے اپنے اردگرد موجود زمین اور چٹانوں کا نسبتاً آہستہ آہستہ جائزہ لینے کا فیصلہ کیا۔
اسی دوران ان کی نظر ایک ایسی جگہ پر پڑی جو انہیں عام چٹان سے مختلف محسوس ہوئی۔
کینٹ ہپس کے مطابق انہیں لگا کہ وہاں شاید کسی جانور کے قدموں کے نشانات موجود ہیں۔ ابتدائی طور پر یہ محض چٹان کی ایک غیرمعمولی ساخت معلوم ہوتی تھی، تاہم قریب سے مشاہدہ کرنے پر اندازہ ہوا کہ معاملہ اس سے کہیں زیادہ اہم ہے۔
چٹان میں محفوظ تھے چار بڑے قدم
ماہرین کے جائزے کے بعد معلوم ہوا کہ وہاں چار بڑے، تین پنجوں والے قدموں کے نشانات محفوظ تھے۔ ہر نشان تقریباً 3 فٹ لمبا تھا جبکہ ان نشانات کا مجموعی سلسلہ تقریباً 23 فٹ تک پھیلا ہوا تھا۔
تحقیق کے نتائج ایک سال سے زائد عرصے بعد سامنے آئے ہیں، جن کے مطابق یہ نشانات ممکنہ طور پر ٹی ریکس (T. rex) کے تھے۔
ارجنٹینا میں کروڑوں سال پرانا مکمل محفوظ ڈائنا سور کا انڈہ دریافت
یہ دریافت اس لیے بھی اہم ہے کہ اس سے پہلے اس مخصوص خطے میں ٹی ریکس کی موجودگی کے ایسے شواہد سامنے نہیں آئے تھے۔ تاہم اسی علاقے کے آس پاس ٹائرینوسارز کے فوسلز بڑی تعداد میں دریافت ہو چکے ہیں۔
6 کروڑ 65 لاکھ سال پرانے ہونے کا امکان
تحقیق کے مطابق یہ قدموں کے نشانات تقریباً 6 کروڑ 65 لاکھ سال پرانے ہوسکتے ہیں۔ یہ وہ دور تھا جب ٹی ریکس سمیت کئی بڑے ڈائنا سورز زمین پر موجود تھے۔
دنیا کے مختلف حصوں میں بالغ ٹی ریکس کے قدموں کے صرف دو ایسے شواہد پہلے ملے تھے، تاہم ان سے اس شکاری ڈائنا سور کے چلنے کے انداز کے بارے میں زیادہ معلومات حاصل نہیں ہوسکی تھیں۔
نارتھ ڈکوٹا میں ملنے والے ان نئے نشانات کے تجزیے سے سائنس دانوں نے اندازہ لگایا ہے کہ یہ دیوہیکل شکاری تقریباً ساڑھے 3 سے ساڑھے 4 میل فی گھنٹہ کی رفتار سے چل رہا تھا۔ یہ رفتار تقریباً ایک انسان کی تیز چہل قدمی کے برابر بنتی ہے۔
دریافت ڈینور میوزیم منتقل کی جائے گی
منصوبے کے مطابق ان قدموں کے نشانات کو 2026 کے دوران کسی وقت وہاں سے نکال کر ڈینور کے ایک میوزیم منتقل کیا جائے گا، جہاں انہیں محفوظ رکھنے کے ساتھ ساتھ مزید سائنسی تحقیق کے لیے بھی استعمال کیا جا سکے گا۔
کینٹ ہپس نے اس دریافت کو اپنے لیے غیرمعمولی تجربہ قرار دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ ایک استاد کی حیثیت سے وہ ہمیشہ اپنے طلبہ کو بتاتے ہیں کہ سائنس کا آغاز تجسس، جذبے اور باریک بینی سے مشاہدے سے ہوتا ہے، لیکن انہوں نے کبھی تصور بھی نہیں کیا تھا کہ خود اسی اصول پر عمل کرتے ہوئے ایسی اہم دریافت کا حصہ بن جائیں گے۔
