بنگلادیش اپنی فضائیہ کو جدید بنانے کے لیے چین سے J-10CE لڑاکا طیاروں اور اٹیک ہیلی کاپٹرز کی ممکنہ خریداری پر باضابطہ مذاکرات کے قریب پہنچ گیا ہے۔
بنگلادیش چین سے جدید لڑاکا طیارے خریدنے کی جانب اہم پیش رفت کر رہا ہے۔ غیر ملکی خبررساں ایجنسی کے مطابق ڈھاکا حکومت چینی J-10CE لڑاکا طیاروں اور اٹیک ہیلی کاپٹرز کی ممکنہ خریداری کے حوالے سے باضابطہ مذاکرات شروع کرنے کے قریب پہنچ گئی ہے۔
رپورٹ کے مطابق بنگلادیشی حکومت کی جانب سے تشکیل دیا گیا ایک پینل ممکنہ دفاعی معاہدے کا مسودہ تیار کر رہا ہے۔ بنگلادیشی وزیر اعظم کے مشیر برائے اطلاعات و نشریات زاہد الرحمان نے بھی اس پیش رفت کی تصدیق کی ہے، تاہم انہوں نے مجوزہ معاہدے کی حتمی تفصیلات فراہم نہیں کیں۔
تقریباً 24 J-10CE طیاروں پر غور
مقامی میڈیا رپورٹس کے مطابق بنگلادیش اپنی فضائیہ کو جدید خطوط پر استوار کرنے کے لیے تقریباً 24 J-10CE لڑاکا طیارے خریدنے پر غور کر رہا ہے۔
تاہم بنگلادیشی وزیر اعظم کے مشیر زاہد الرحمان نے واضح کیا کہ طیاروں کی حتمی تعداد، ممکنہ معاہدے کی مجموعی مالیت اور ان کی ترسیل کے شیڈول کے بارے میں ابھی کوئی حتمی فیصلہ نہیں ہوا۔ ان کے مطابق ان تفصیلات کا تعین چین کے ساتھ ہونے والے مذاکرات کے دوران کیا جائے گا۔
اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ موجودہ مرحلے پر معاملہ حتمی خریداری کے بجائے ممکنہ معاہدے کے لیے بات چیت اور تیاری کے مرحلے میں ہے۔
چینی طیاروں کی کارکردگی کا جائزہ لیا گیا
زاہد الرحمان کے مطابق بنگلادیش نے اپنے پڑوس میں ہونے والے حالیہ تنازع کے دوران چینی ساختہ لڑاکا طیاروں کی کارکردگی کا بغور جائزہ لیا ہے۔ اسی جائزے کو بھی ممکنہ خریداری کے فیصلے میں ایک اہم عنصر قرار دیا جا رہا ہے۔
J-10CE، چین کے J-10 لڑاکا طیارے کا برآمدی ورژن ہے اور اسے جدید ایویونکس، ریڈار اور مختلف اقسام کے ہتھیاروں کے استعمال کی صلاحیت کے ساتھ پیش کیا جاتا ہے۔
صومالیہ کی پاکستان سے 24 JF-17 Thunder طیاروں کی خریداری پر اہم پیشرفت
تاہم بنگلادیش کی جانب سے طیاروں کی خریداری کے حوالے سے حتمی معاہدہ ابھی طے نہیں پایا، اس لیے طیاروں کی کارکردگی یا مستقبل کی خریداری سے متعلق حتمی نتیجہ اخذ کرنا قبل از وقت ہوگا۔
چین بنگلادیش کا بڑا دفاعی سپلائر
چین گزشتہ دو دہائیوں کے دوران بنگلادیش کے لیے دفاعی سازوسامان کے اہم ترین ذرائع میں شامل رہا ہے۔ خبررساں ایجنسی کے مطابق چین نے بنگلادیش کو بحری جہازوں، لڑاکا طیاروں، ٹینکوں اور میزائل نظام سمیت مختلف نوعیت کا فوجی سازوسامان فراہم کیا ہے۔
دونوں ممالک کے درمیان دفاعی تعاون کے باعث چین پہلے ہی بنگلادیش کے لیے فوجی سازوسامان کا سب سے بڑا ذریعہ بن چکا ہے۔ J-10CE طیاروں کی ممکنہ خریداری اس تعاون کو مزید وسعت دے سکتی ہے۔
ممکنہ معاہدہ دفاعی تعاون میں اہم پیش رفت ہوگا
اگر بنگلادیش اور چین کے درمیان J-10CE طیاروں کی خریداری کا معاہدہ طے پاتا ہے تو یہ ڈھاکا کی حالیہ برسوں میں بڑی دفاعی خریداریوں میں شامل ہوگا۔ اس سے بنگلادیش کی فضائی دفاعی صلاحیتوں کو جدید بنانے کی کوششوں کو بھی تقویت مل سکتی ہے۔
فی الحال بنگلادیشی حکومت نے طیاروں کی تعداد، معاہدے کی قیمت یا ترسیل کے وقت سے متعلق کوئی حتمی اعلان نہیں کیا۔ حکام کے مطابق ان معاملات کا فیصلہ چین کے ساتھ باضابطہ مذاکرات کے بعد ہی کیا جائے گا۔ یوں موجودہ پیش رفت کو ممکنہ دفاعی معاہدے کی تیاری کے طور پر دیکھا جا رہا ہے، نہ کہ حتمی خریداری کے اعلان کے طور پر۔
