جماعت اسلامی کے امیر حافظ نعیم نے کہا ہے کہ جماعت اسلامی کا دھرنا کسی کے خلاف نہیں، دھرنا کسی کی ذات کے لیے نہیں، دھرنا 25 کروڑ عوام کیلئے ہے۔
میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے حافظ نعیم کا کہنا تھا کہ پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے سے مہنگائی ہو رہی ہے، بجلی کے بل میں طرح طرح کے ٹیکسز رکھے گئے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ آئی پی پیز 1994 سے ملک میں بجلی کے ذمہ دار ہیں، بجلی کے پلانٹس کی کپیسیٹی میں بھی غلط کام کیا گیا۔
انہوں نے مزید کہا کہ کپسیٹی پیمنٹس کا بوجھ بھی صارفین اٹھاتے ہیں، قرض پر سود بھی عوام ادا کریں تو ریلیف کہاں ہے؟
ان کا کہنا تھا کہ پاکستان میں جب صحیح عدالتی نظام آئے گا، یہ جعلی قسم کے سیٹ اپ ختم ہونگے تو ان کا فرانزک آڈٹ بھی ہو گا، ان کا ٹرائل بھی ہو گا کہ انہوں نے لوگوں کیساتھ فراڈ کیا ہے، بجلی کی پیداواری استعداد میں دو نمبری کی گئی۔
گزشتہ روز لاہور میں دھرنا شرکاء سے خطاب کے دوران امیر جماعت اسلامی کا کہنا تھا کہ حکمران مراعات نہیں چھوڑ سکتے، یہ غریب کا خون نچوڑتے ہیں۔
پیٹرولیم لیوی کے خلاف جماعت اسلامی کا ملک گیر احتجاج، 510 مقامات پر دھرنوں کا اعلان
انہوں نے کہا کہ ن لیگ کے جاگیر دار بتائیں، اُنہوں نے اپنی جاگیروں پر کتنا ٹیکس دیا؟ یہ جاگیردارانہ نظام نہیں چلے گا، یہ غریب کاشتکار کا خون چوستے ہیں۔
حافظ نعیم نے کہا کہ بڑے بڑے جاگیردار ٹیکس نہیں دیتے، بڑے بیوروکریٹس ٹیکس کھا جاتے ہیں، یہ نظام اب نہیں چل سکتا۔ آج ہم نے دھرنا شروع کر دیا ہے اور یہ دھرنا جاری رہے گا۔ یہ نظام جو ہم پر مسلط ہے اس کا عوام سے کوئی تعلق نہیں، جب تک حکومت گھٹنے نہیں ٹیکے گی یہ جدوجہد جاری رہے گی۔
