دہلی پولیس نے حاضر سروس افسر کو مبینہ طور پر خفیہ معلومات شیئر کرنے کے الزام میں گرفتار کیا، تحقیقات جاری ہیں
بھارتی فضائیہ کے ایک حاضر سروس ونگ کمانڈر کو حساس دفاعی معلومات مبینہ طور پر افشا کرنے کے الزام میں گرفتار کرلیا گیا ہے۔ بھارتی میڈیا رپورٹس کے مطابق دہلی پولیس نے کارروائی کرتے ہوئے 44 سالہ افسر کو حراست میں لیا، جس کے بعد اسے عدالتی تحویل میں تہاڑ جیل بھیج دیا گیا۔
حکام کی جانب سے گرفتار افسر کا نام ظاہر نہیں کیا گیا، تاہم بھارتی میڈیا کے مطابق پولیس اس معاملے کی مزید تحقیقات کررہی ہے اور یہ جاننے کی کوشش کی جارہی ہے کہ حساس معلومات کس نوعیت کی تھیں اور وہ کس مقصد کے تحت شیئر کی گئیں۔
سوشل میڈیا دوست خاتون سے متعلق الزام
میڈیا رپورٹس کے مطابق ونگ کمانڈر پر الزام ہے کہ انہوں نے سوشل میڈیا کے ذریعے رابطے میں آنے والی ایک خاتون کے موبائل فون میں مبینہ طور پر ایسا سافٹ ویئر انسٹال کیا جس کے ذریعے ڈیٹا حاصل کیا جاسکتا تھا۔
پولیس کا الزام ہے کہ اس ذریعے سے حساس دفاعی معلومات حاصل کرکے خاتون کے ساتھ شیئر کی گئیں۔ تاہم ان الزامات کی تفصیلات اور مبینہ طور پر شیئر کیے گئے ڈیٹا کی مکمل نوعیت تاحال سامنے نہیں آئی۔
چونکہ معاملہ زیر تفتیش ہے، اس لیے افسر پر عائد الزامات کو حتمی جرم قرار نہیں دیا جاسکتا۔ تحقیقات مکمل ہونے اور عدالت میں شواہد پیش کیے جانے کے بعد ہی معاملے کی قانونی حیثیت واضح ہوسکے گی۔
بھارتی فضائیہ کا جنگی طیارہ تربیتی پرواز کے دوران آسام میں گر کر تباہ، 2 پائلٹ ہلاک
30 مئی کو گرفتاری
بھارتی میڈیا کے مطابق دہلی پولیس نے ونگ کمانڈر کو 30 مئی کو گرفتار کیا تھا۔ گرفتاری کے بعد انہیں عدالتی تحویل میں دے دیا گیا اور اس وقت وہ تہاڑ جیل میں موجود ہیں۔
رپورٹس میں بتایا گیا ہے کہ پولیس حساس دفاعی معلومات کے مبینہ افشا کے معاملے کی مختلف پہلوؤں سے تحقیقات کررہی ہے۔ تفتیش کار یہ معلوم کرنے کی کوشش بھی کررہے ہیں کہ افسر نے مبینہ طور پر معلومات تک کس طرح رسائی حاصل کی اور انہیں آگے منتقل کرنے کا طریقہ کیا تھا۔
افسر کا نام تاحال ظاہر نہیں کیا گیا
رپورٹس کے مطابق گرفتار ونگ کمانڈر کی عمر 44 سال ہے، تاہم ان کا نام ظاہر نہیں کیا گیا۔ بھارتی فضائیہ کی جانب سے بھی اس معاملے پر تفصیلی معلومات سامنے نہیں آئی ہیں۔
دفاعی اداروں سے وابستہ اہلکاروں کے خلاف حساس معلومات کے افشا کے الزامات کو انتہائی سنجیدہ سمجھا جاتا ہے، کیونکہ ایسی معلومات قومی سلامتی سے متعلق ہوسکتی ہیں۔ اسی وجہ سے پولیس اور متعلقہ ادارے معاملے کی مزید چھان بین کررہے ہیں۔
فی الحال دستیاب اطلاعات کے مطابق افسر عدالتی تحویل میں ہے اور تحقیقات جاری ہیں۔ کیس میں مزید پیش رفت اور ممکنہ قانونی کارروائی کا انحصار تفتیش کے نتائج اور عدالت میں پیش کیے جانے والے شواہد پر ہوگا۔
