فلائی دبئی کے شریک پائلٹ کو سزائے موت کا امکان، اسرائیلی میڈیا کا دعویٰ

تازہ ترین خبروں اور تبصروں کیلئے ہمارا وٹس ایپ چینل جوائن کریں

متحدہ عرب امارات نے اسرائیل جانے والی فلائی دبئی کی پرواز میں مبینہ حملے کے ملزم شریک پائلٹ حمام الحَمّامی کے خلاف تحقیقات تیز کردی ہیں، جبکہ اسرائیلی میڈیا نے دعویٰ کیا ہے کہ ملزم کو سخت ترین سزا، یعنی سزائے موت دیے جانے کا امکان ہے۔

latest urdu news

اسرائیلی میڈیا کے مطابق متحدہ عرب امارات فلائی دبئی کی پرواز کے شریک پائلٹ حمام الحَمّامی کے خلاف انتہائی سخت کارروائی پر غور کر رہا ہے۔ اسرائیلی ویب سائٹ وائے نیٹ نے ایک سینئر اماراتی ذریعے کے حوالے سے بتایا کہ تحقیقات مکمل ہونے اور قانونی کارروائی کے بعد شریک پائلٹ کو سزائے موت کا سامنا ہوسکتا ہے۔

رپورٹ کے مطابق حمام الحَمّامی پر الزام ہے کہ اس نے دبئی سے اسرائیل جانے والی فلائی دبئی کی پرواز کے دوران کپتان پر حملہ کیا اور طیارے کا کنٹرول سنبھالنے کی کوشش کی۔ متحدہ عرب امارات نے اس واقعے کو دہشت گردی کی کوشش قرار دیا ہے۔

اسرائیلی انٹیلیجنس اہلکار بھی تحقیقات میں شامل

اسرائیلی میڈیا کی رپورٹ کے مطابق واقعے کی تحقیقات میں اسرائیلی انٹیلیجنس اہلکار اور ہوا بازی سے متعلق ماہرین بھی متحدہ عرب امارات پہنچ گئے ہیں۔ رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ تحقیقات میں سعودی، عمانی اور امریکی حکام سے بھی تعاون لیا جا رہا ہے۔

تحقیقات کا بنیادی مقصد یہ معلوم کرنا ہے کہ شریک پائلٹ نے طیارے پر حملہ کیوں کیا، آیا وہ اکیلے کارروائی کر رہا تھا یا کسی دوسرے گروہ یا فرد سے رابطے میں تھا، اور اسے حساس پرواز پر تعینات کیے جانے سے قبل اس کے ماضی سے متعلق معلومات متعلقہ اداروں تک کیوں نہیں پہنچ سکیں۔

تاہم دستیاب رپورٹس کے مطابق تحقیقات ابھی جاری ہیں اور ملزم کے خلاف باقاعدہ عدالتی کارروائی یا حتمی سزا کا اعلان نہیں کیا گیا۔ سزائے موت سے متعلق خبر فی الحال اسرائیلی میڈیا میں ایک سینئر اماراتی ذریعے سے منسوب کی گئی ہے۔

پرواز میں کیا ہوا تھا؟

واضح رہے کہ 30 ستمبر کو فلائی دبئی کی پرواز FZ1073 دبئی سے تل ابیب جارہی تھی۔ پرواز کے دوران شریک پائلٹ حمام الحَمّامی نے کپتان پر حملہ کیا اور مبینہ طور پر طیارے کا کنٹرول سنبھالنے کی کوشش کی۔

متحدہ عرب امارات کے حکام کے مطابق شریک پائلٹ نے کاک پٹ میں موجود ہنگامی کلہاڑی سے کپتان پر حملہ کیا۔ حملے کے نتیجے میں طیارے کی صورتحال انتہائی خطرناک ہوگئی، تاہم کپتان اور مسافروں کی مداخلت سے شریک پائلٹ کو قابو کرلیا گیا۔ بعد ازاں طیارے نے سعودی عرب کے شہر تبوک میں ہنگامی لینڈنگ کی۔

رپورٹس کے مطابق طیارے میں 170 سے زائد افراد سوار تھے، جنہیں بروقت کارروائی کے نتیجے میں محفوظ رکھا گیا۔ بعد میں شریک پائلٹ کو سعودی عرب میں حراست میں لینے کے بعد متحدہ عرب امارات منتقل کردیا گیا۔

شریک پائلٹ کے منصوبے سے متعلق نئے دعوے

حالیہ تحقیقات کے حوالے سے اسرائیلی ذرائع نے دعویٰ کیا ہے کہ شریک پائلٹ مبینہ طور پر طیارے کو اسرائیل میں کسی ہدف سے ٹکرانے کا منصوبہ رکھتا تھا۔ رائٹرز کے مطابق اسرائیلی اور اماراتی ذرائع کا کہنا ہے کہ اس نے مبینہ طور پر ایئرلائن میں ملازمت حاصل کرنے سے پہلے ہی حملے کا منصوبہ بنایا تھا۔

تاہم حکام ابھی اس بات کی تحقیقات کر رہے ہیں کہ اس منصوبے کے پیچھے کوئی منظم نیٹ ورک موجود تھا یا شریک پائلٹ نے مبینہ طور پر یہ کارروائی اکیلے کی۔

اس واقعے کے بعد مختلف ممالک کے سکیورٹی اور انٹیلیجنس ادارے شریک پائلٹ کے ماضی، اس کی ملازمت، سفری ریکارڈ اور طیارے پر تعیناتی کے عمل کا بھی جائزہ لے رہے ہیں۔ تحقیقات مکمل ہونے کے بعد ہی ملزم کے خلاف قانونی کارروائی اور ممکنہ سزا کے بارے میں حتمی صورتحال واضح ہوسکے گی۔

شیئر کریں:

ہمیں فالو کریں

frontpage hit counter