بھارت میں طلبہ کے احتجاج کے دوران ایک طالبہ نے دعویٰ کیا ہے کہ جب انہوں نے اپنے حقوق کے لیے آواز اٹھائی تو انہیں بھی "پاکستانی ایجنٹ” قرار دیا گیا، جبکہ اس نے ماضی میں ایسے الزامات کے حوالے سے بھی سوالات اٹھائے۔
جنتر منتر میں احتجاج کے دوران طالبہ کا بیان
بھارت کے دارالحکومت نئی دہلی کے جنتر منتر میں جاری طلبہ کے احتجاج کے دوران بھوک ہڑتال میں شریک طالبہ نیہا بورا نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے دعویٰ کیا کہ اپنے حقوق کے لیے آواز بلند کرنے والے طلبہ کو بھی "پاکستانی ایجنٹ” قرار دیا گیا۔
ان کے مطابق جب ماضی میں کشمیر اور دہلی فسادات کے تناظر میں بعض افراد پر ایسے الزامات لگائے گئے تو عوام نے انہیں درست سمجھا، لیکن جب یہی الزام احتجاج کرنے والے طلبہ پر عائد کیا گیا تو انہیں احساس ہوا کہ ایسے دعوؤں پر سوال اٹھانا ضروری ہے۔
میڈیا کے کردار پر تنقید
نیہا بورا نے کہا کہ کشمیر میں ہونے والے واقعات پر خاموشی اختیار کی گئی، تاہم اب اسی نوعیت کے حالات ملک کے دیگر حصوں تک پہنچ چکے ہیں۔
انہوں نے دعویٰ کیا کہ احتجاج کرنے والے طلبہ کو بھی "پاکستانی ایجنٹ” قرار دیا گیا، جس کے بعد ان کے بقول انہیں ماضی میں لگائے گئے اسی نوعیت کے الزامات کی صداقت پر بھی شبہات پیدا ہوئے۔
نوجوانوں کی آن لائن تحریک پر قدغن، کاکروچ جنتا پارٹی کے سماجی رابطہ صفحات بند
یہ خیالات طالبہ کے ذاتی مؤقف کی عکاسی کرتے ہیں۔
طلبہ کی تحریک اور حکومتی پیش رفت
رپورٹس کے مطابق بھارت میں نوجوانوں کی احتجاجی تحریک کے بعد حکومت نے بعض مطالبات پر پیش رفت کی، جبکہ وزیرِ تعلیم نے اپنے عہدے سے استعفا دے دیا۔
اسی دوران مختلف مقامات پر احتجاجی مظاہروں کے دوران بھارتی پولیس اور مظاہرین کے درمیان جھڑپوں کی اطلاعات بھی سامنے آئیں۔ بعض مظاہرین نے پولیس پر طاقت کے استعمال کا الزام عائد کیا، جبکہ حکام کی جانب سے صورتحال کو قابو میں رکھنے کے لیے کارروائی کی گئی۔
دعوؤں کی آزادانہ تصدیق نہیں ہوئی
نیہا بورا کے بیانات اور احتجاج کے دوران لگائے گئے الزامات ان کا ذاتی مؤقف ہیں۔ اس خبر کے تناظر میں ان دعوؤں پر بھارتی حکومت یا متعلقہ اداروں کا ردعمل سامنے نہیں آیا، جبکہ ان الزامات کی آزاد ذرائع سے تصدیق بھی نہیں ہو سکی۔ اس لیے ان بیانات کو متعلقہ فریق کے دعووں کے طور پر دیکھا جانا چاہیے، جن کی حقیقت کا تعین دستیاب شواہد اور متعلقہ کارروائی کے بعد ہی ممکن ہوگا۔
