اسلام آباد: مشیر برائے وزارتِ خزانہ خرم شہزاد نے کہا ہے کہ پاکستان نے ملکی تاریخ میں پہلی مرتبہ 4,722 ارب روپے کا قرض مقررہ مدت سے پہلے واپس کر دیا ہے، جسے معاشی نظم و ضبط اور مالی استحکام کی جانب ایک اہم پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔
خرم شہزاد نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر جاری اپنے بیان میں کہا کہ مالی سال 2025-26 کے دوران قبل از وقت قرضوں کی ادائیگی 4,722 ارب روپے تک پہنچ گئی، جو پاکستان کی تاریخ میں اس نوعیت کی سب سے بڑی اور مسلسل قبل از وقت ادائیگی ہے۔
انہوں نے کہا کہ یہ اقدام صرف قرض کی جلد ادائیگی تک محدود نہیں بلکہ اس کا مقصد قرض کے مجموعی بوجھ اور مالیاتی خطرات میں کمی لانا بھی ہے۔
آڈٹ رپورٹ: وفاقی حکومت کا قرض 82 کھرب روپے سے تجاوز، مالیاتی انتظام پر سنگین سوالات
مشیر خزانہ کے مطابق قبل از وقت قرض کی واپسی سے حکومت کی قرض سروسنگ (Debt Servicing) پر آنے والی لاگت کم ہوگی، جس سے مالی وسائل کو دیگر ترقیاتی اور عوامی شعبوں میں استعمال کرنے میں مدد ملے گی۔
خرم شہزاد کا کہنا تھا کہ یہ پیش رفت پاکستان کی معیشت میں زیادہ استحکام، بہتر مالی نظم و نسق اور ذمہ دارانہ قرض پالیسی کی جانب ایک بنیادی تبدیلی کی عکاس ہے۔
