سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی تصاویر اور ویڈیوز ایرانی میڈیا اور سفارتی ذرائع کی جانب سے بھی شیئر کی جا رہی ہیں۔
رواں برس فروری میں امریکی اور اسرائیلی حملے میں ہلاک ہونے والے ایران کے سابق سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کی قبر سے منسوب تصاویر اور ویڈیوز منظرِ عام پر آ گئی ہیں۔ یہ تصاویر اور ویڈیوز سوشل میڈیا پر تیزی سے گردش کر رہی ہیں، جبکہ ایرانی میڈیا کے بعض اداروں اور ایران کے سفارتی مشنز کی جانب سے بھی انہیں شیئر کیا گیا ہے۔
سوشل میڈیا پر تصاویر اور ویڈیوز وائرل
سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر گردش کرنے والی تصاویر میں آیت اللہ علی خامنہ ای کی آخری آرام گاہ دکھائی گئی ہے۔ اسی سلسلے میں مختلف ویڈیوز بھی شیئر کی جا رہی ہیں، جن میں زائرین کو قبر پر حاضری دیتے ہوئے دیکھا جا سکتا ہے۔
ایرانی خبر رساں ادارے فارس نیوز ایجنسی نے بھی اس حوالے سے تصاویر اور ویڈیوز جاری کی ہیں۔ اس کے علاوہ بھارتی شہر حیدرآباد میں ایران کے قونصل خانے نے بھی اپنے سوشل میڈیا اکاؤنٹس پر متعلقہ مواد شیئر کیا ہے، جس کے بعد یہ تصاویر مزید توجہ کا مرکز بن گئی ہیں۔
آیت اللہ علی خامنہ ای اور اہلِ خانہ کی تدفین آج مشہد میں ہوگی
تدفین سے قبل مختلف شہروں میں آخری رسومات
رپورٹس کے مطابق آیت اللہ علی خامنہ ای کی نمازِ جنازہ اور جلوسِ جنازہ میں لاکھوں افراد نے شرکت کی، جبکہ ایرانی ذرائع کے مطابق مجموعی شرکت کا تخمینہ تقریباً 4 کروڑ 30 لاکھ افراد تک بتایا گیا ہے۔
https://t.co/JMdE8uenig‘s exclusive footage of the sacred resting place of the martyred Leader of the Islamic Revolution and his martyred family members, in the Dar al-Dhikr hall of the holy shrine of Imam Reza (pbuh), July 10, 2026#WeMustRise #MartyrKhamenei pic.twitter.com/7vaRufQkgC
— Khamenei Media (@Khamenei_m) July 10, 2026
مزید یہ کہ ان کے جسدِ خاکی کو پہلے تہران منتقل کیا گیا، جہاں آخری رسومات ادا کی گئیں۔ اس کے بعد اسے قم اور پھر عراق کے مقدس شہروں کربلا اور نجف لے جایا گیا، جہاں عقیدت مندوں نے آخری دیدار کیا۔ بعد ازاں جسدِ خاکی کو ایران واپس لا کر مشہد میں سپردِ خاک کر دیا گیا۔
تصاویر کے بعد عوامی دلچسپی میں اضافہ
قبر کی تصاویر اور ویڈیوز منظرِ عام پر آنے کے بعد سوشل میڈیا پر اس حوالے سے وسیع پیمانے پر تبصرے کیے جا رہے ہیں۔ مختلف صارفین ان تصاویر کو شیئر کرتے ہوئے اپنے خیالات کا اظہار کر رہے ہیں، جبکہ ایرانی میڈیا بھی اس موضوع پر مسلسل اپ ڈیٹس فراہم کر رہا ہے۔ تاہم سوشل میڈیا پر گردش کرنے والے مواد کے بارے میں آزاد ذرائع سے تصدیق کرنا ہمیشہ ضروری سمجھا جاتا ہے۔
