لاہور: حکومتِ پنجاب نے یکم جولائی سے صوبے بھر میں زمین اور جائیداد کے تمام لین دین کے لیے گرین پراپرٹی سرٹیفکیٹ کو لازمی قرار دے دیا ہے۔ اس اقدام کا مقصد ملکیت اور قبضے کی شفاف تصدیق کو یقینی بنانا اور جائیداد کے معاملات میں جعلسازی کا خاتمہ کرنا ہے۔
چیئرمین پنجاب لینڈ ریکارڈ اتھارٹی (پلرا) طارق سبحانی کے مطابق گرین پراپرٹی سرٹیفکیٹ سے زمین کی قانونی حیثیت، ملکیت اور قبضے کی درست معلومات دستیاب ہوں گی، جس سے فراڈ اور جعلی دستاویزات کے ذریعے ہونے والے لین دین کی روک تھام میں مدد ملے گی۔
انہوں نے بتایا کہ پنجاب کے صدیوں پرانے اراضی نظام میں اہم اصلاحات متعارف کرائی گئی ہیں، جن کے تحت جدید اور شفاف نظام کو فروغ دیا جا رہا ہے۔ گرین پراپرٹی سرٹیفکیٹ کے اجرا کی فیس 950 روپے مقرر کی گئی ہے۔
پنجاب میں جائیدادوں کے تحفظ کیلئے انقلابی اقدام، گرین پراپرٹی سرٹیفکیٹ نافذ
چیئرمین پلرا نے مزید کہا کہ شہری اپنے قریبی اراضی ریکارڈ سینٹر سے گرین پراپرٹی سرٹیفکیٹ حاصل کر سکتے ہیں، جبکہ یکم جولائی کے بعد زمین اور جائیداد کی خرید و فروخت سمیت تمام متعلقہ لین دین کے لیے یہ سرٹیفکیٹ لازمی ہوگا۔
