بھارتی اداکار سیف علی خان** نے اپنے گھر میں پیش آنے والے جان لیوا چاقو حملے کے بارے میں پہلی بار تفصیل سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس واقعے کے دوران انہیں یقین ہو گیا تھا کہ وہ شاید زندہ نہ بچ سکیں۔
ایک حالیہ انٹرویو میں انہوں نے بتایا کہ حملہ آور رات کے وقت ممبئی میں ان کی رہائش گاہ کی کھڑکی سے اندر داخل ہوا اور رقم کا مطالبہ کیا۔ ان کے مطابق حملہ آور کے پاس متعدد چاقو تھے اور صورتحال اچانک انتہائی خطرناک ہو گئی۔
سیف علی خان نے کہا کہ حملہ آور پہلے بچوں کے کمرے میں داخل ہوا، جس کے بعد وہ وہاں پہنچے تو ان پر یکے بعد دیگرے کئی وار کیے گئے۔ ان کا کہنا تھا کہ اس دوران انہیں اور ان کے اہل خانہ کو لگا کہ شاید وہ اس حملے میں جانبر نہ ہو سکیں۔
سیف علی خان کی سیکیورٹی رونت رائے کی کمپنی کے سپرد
اداکار کے مطابق حملے میں ان کی گردن اور ریڑھ کی ہڈی سمیت جسم کے مختلف حصوں پر شدید زخم آئے، جبکہ حملے کے بعد گھر میں موجود ایک ملازمہ نے بہادری کا مظاہرہ کرتے ہوئے حملہ آور کو باہر نکالنے میں مدد کی۔
بعد ازاں انہیں فوری طور پر ممبئی کے لیلاوتی اسپتال منتقل کیا گیا، جہاں ان کا علاج کیا گیا۔
