امریکی حکام کے اثاثوں تک رسائی ملی تو انہیں ضبط کیا جائے گا، ایرانی چیف جسٹس

تازہ ترین خبروں اور تبصروں کیلئے ہمارا وٹس ایپ چینل جوائن کریں

ایران کے چیف جسٹس غلام حسین محسنی ایجائی نے کہا ہے کہ ایرانی عدالتوں کی جانب سے متعدد امریکی حکام کے خلاف فیصلے جاری کیے جا چکے ہیں اور اگر مستقبل میں ان کے اثاثوں تک رسائی ممکن ہوئی تو عدالتی احکامات پر عمل درآمد کرتے ہوئے انہیں ضبط کیا جائے گا۔

latest urdu news

امریکی حکام کے خلاف عدالتی فیصلوں کا دعویٰ

ایران کے چیف جسٹس غلام حسین محسنی ایجائی نے اپنے بیان میں کہا کہ ایرانی عدالتوں نے ایرانی عوام کے خلاف مبینہ جرائم کے الزامات پر متعدد امریکی حکام کے خلاف فیصلے صادر کیے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ یہ عدالتی فیصلے ایران کے قانونی نظام کے تحت جاری کیے گئے ہیں اور عدلیہ ان پر عمل درآمد کے لیے پرعزم ہے۔ تاہم فی الحال متعلقہ امریکی حکام کے اثاثوں تک براہِ راست رسائی ممکن نہیں ہو سکی۔

اثاثوں تک رسائی ملتے ہی کارروائی ہوگی

غلام حسین محسنی ایجائی نے کہا کہ جیسے ہی ان امریکی حکام کے اثاثوں تک رسائی حاصل ہوگی، عدلیہ عدالتی فیصلوں کے مطابق ان اثاثوں کو ضبط کرنے کے لیے ضروری قانونی کارروائی کرے گی۔

انہوں نے واضح کیا کہ اس وقت تک ایران کو ان اثاثوں تک رسائی حاصل نہیں ہوئی، لیکن مستقبل میں اگر ایسا ممکن ہوا تو عدالتی احکامات پر مکمل عمل درآمد کیا جائے گا۔

ایرانی سپریم لیڈر نے امریکا اور اسرائیل کے خلاف مبینہ جنگی جرائم پر قانونی کارروائی کا حکم دے دیا

ضبط کیے گئے امریکی اثاثوں کی مثال

ایرانی چیف جسٹس نے اپنے بیان میں حال ہی میں ایک امریکی جہاز کی ضبطگی کا حوالہ بھی دیا۔ ان کے مطابق اس جہاز سے متعلق اثاثے ان ایرانی شہریوں کے حق میں ضبط کیے گئے جو، ان کے بقول، امریکی اقدامات سے متاثر ہوئے تھے۔

انہوں نے کہا کہ یہ اقدام اس بات کی ایک مثال ہے کہ عدالتی فیصلوں پر عمل درآمد ممکن ہونے کی صورت میں ایران قانونی طریقہ کار اختیار کرتا ہے۔

مستقبل میں مزید کارروائی کا عندیہ

غلام حسین محسنی ایجائی نے مزید کہا کہ اگر آئندہ بھی ایران کو ایسے امریکی حکام کے اثاثوں تک رسائی حاصل ہوئی جنہیں ایرانی عدالتوں نے اپنے فیصلوں میں ذمہ دار قرار دیا ہے، تو ان اثاثوں کو عدالتی احکامات کے مطابق ضبط کر لیا جائے گا۔

یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب ایران اور امریکا کے درمیان تعلقات بدستور کشیدہ ہیں۔ دونوں ممالک مختلف سیاسی، سفارتی اور قانونی معاملات پر ایک دوسرے کے خلاف سخت مؤقف اختیار کیے ہوئے ہیں، جبکہ حالیہ بیانات سے ظاہر ہوتا ہے کہ دونوں جانب قانونی اور سفارتی محاذ پر بھی تناؤ برقرار ہے

شیئر کریں:

ہمیں فالو کریں

frontpage hit counter