ایران کے سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای نے ایران کے خلاف مبینہ جنگی جرائم کے معاملے پر امریکا اور اسرائیل کے خلاف قانونی کارروائی شروع کرنے کی ہدایت جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس معاملے کو قومی اور بین الاقوامی عدالتوں میں اٹھایا جانا چاہیے۔
امریکا اور اسرائیل کے خلاف قانونی کارروائی کی ہدایت
ایرانی سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای نے اپنے ایک بیان میں متعلقہ حکام کو ہدایت دی ہے کہ ایران کے خلاف مبینہ جنگی جرائم کے حوالے سے امریکا اور اسرائیل کے خلاف قانونی کارروائی کا آغاز کیا جائے۔
انہوں نے کہا کہ ایران کے خلاف ہونے والے مبینہ جرائم کا قومی اور بین الاقوامی سطح پر قانونی محاسبہ ہونا چاہیے اور اس سلسلے میں تمام دستیاب قانونی ذرائع سے استفادہ کیا جائے۔
بین الاقوامی عدالتوں سے رجوع کرنے پر زور
مجتبیٰ خامنہ ای نے اپنے بیان میں کہا کہ ایران اس معاملے کو صرف ملکی سطح تک محدود نہیں رکھے گا بلکہ بین الاقوامی عدالتوں اور متعلقہ قانونی فورمز پر بھی پیش کرے گا تاکہ مبینہ ذمہ داران کا احتساب ممکن بنایا جا سکے۔
انہوں نے مؤقف اختیار کیا کہ ایران کے خلاف کیے گئے اقدامات بین الاقوامی قانون اور انسانی حقوق کے اصولوں کے تناظر میں قانونی جانچ کے متقاضی ہیں۔
موجودہ حالات میں مجتبیٰ خامنہ ای اور ٹرمپ کی ملاقات کا امکان نہیں، محسن رضائی
ایرانی سپریم کورٹ کا مؤقف
ایرانی سپریم کورٹ کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ بعض امریکی اور اسرائیلی رہنماؤں کے عوامی بیانات مبینہ طور پر مجرمانہ ذمہ داری کے اعتراف کے زمرے میں آتے ہیں۔
بیان میں دعویٰ کیا گیا کہ ان بیانات نے ایران کے مؤقف کو تقویت دی ہے اور ایرانی قوم کے حقوق کی بحالی کے لیے قانونی بنیاد فراہم کی ہے، جس کی روشنی میں متعلقہ ادارے آئندہ قانونی اقدامات کریں گے۔
خطے میں کشیدگی کے تناظر میں پیش رفت
یہ اعلان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب حالیہ مہینوں میں ایران، امریکا اور اسرائیل کے درمیان کشیدگی میں نمایاں اضافہ دیکھا گیا ہے۔ اس دوران مختلف فوجی کارروائیوں، جوابی حملوں اور سخت بیانات نے خطے کی سلامتی کی صورتحال کو مزید پیچیدہ بنا دیا ہے۔
تجزیہ کاروں کے مطابق ایران کی جانب سے قانونی کارروائی کا اعلان سفارتی اور قانونی محاذ پر اپنی حکمت عملی کا حصہ ہے، تاہم اس معاملے میں کسی بھی ممکنہ پیش رفت کا انحصار بین الاقوامی قانونی اداروں کے دائرۂ اختیار، شواہد اور متعلقہ فریقوں کے مؤقف پر ہوگا۔ فی الحال امریکا اور اسرائیل کی جانب سے اس اعلان پر کوئی باضابطہ ردِعمل سامنے نہیں آیا ہے۔
