بینظیر انکم سپورٹ پروگرام میں 25 ارب روپے سے زائد مالی بے ضابطگیوں کا انکشاف

تازہ ترین خبروں اور تبصروں کیلئے ہمارا وٹس ایپ چینل جوائن کریں

اسلام آباد: بینظیر انکم سپورٹ پروگرام (بی آئی ایس پی) کی مالی سال 2024-25 سے متعلق آڈٹ سال 2025-26 کی رپورٹ میں بڑے پیمانے پر مالی بے ضابطگیوں اور انتظامی کمزوریوں کا انکشاف ہوا ہے۔ رپورٹ کے مطابق ناقص ڈیٹا پروفائلنگ، کمزور نگرانی اور نظامی خامیوں کے باعث چھ لاکھ سے زائد ایسے افراد کو مالی امداد فراہم کی گئی جو پروگرام کے معیار پر پورا نہیں اترتے تھے۔

latest urdu news

آڈٹ حکام نے مجموعی طور پر 25 ارب روپے سے زائد مالیت کے 6 لاکھ سے زیادہ مشتبہ یا غیر مستحق کیسز کی نشاندہی کی ہے، جس کے بعد پروگرام کی شفافیت اور نگرانی کے نظام پر سنجیدہ سوالات اٹھنے لگے ہیں۔

آڈٹ رپورٹ میں کیا انکشافات سامنے آئے؟

سرکاری آڈٹ دستاویزات کے مطابق بی آئی ایس پی مینجمنٹ انفارمیشن سسٹم (BISP-MIS) میں مستفیدین اور ان کے شریک حیات کے ڈیٹا کی پروفائلنگ میں سنگین خامیاں پائی گئیں۔ انہی کمزوریوں کے باعث 601,850 کیسز میں مالی بے ضابطگیوں کی نشاندہی ہوئی جن کی مجموعی مالیت 25 ارب روپے سے تجاوز کرتی ہے۔

آڈیٹرز کے مطابق مستحق افراد کی جانچ پڑتال کے لیے قائم نظام کئی معاملات میں مؤثر ثابت نہیں ہو سکا، جس کے نتیجے میں ایسے افراد بھی مالی امداد حاصل کرتے رہے جو قواعد کے مطابق اس کے اہل نہیں تھے۔

سرکاری ملازمین اور پنشنرز کو بھی ادائیگیاں

رپورٹ کے مطابق مالی سال 2024-25 کے دوران غیر مشروط نقد امداد (UCT) پروگرام کے تحت 12 ہزار 78 سرکاری ملازمین، پنشنرز یا ان کے شریک حیات کو مجموعی طور پر 515.712 ملین روپے ادا کیے گئے۔

یہ ادائیگیاں اس حقیقت کے باوجود کی گئیں کہ 24 دسمبر 2019 کو وفاقی کابینہ کی جانب سے جاری ہدایات کے مطابق سرکاری ملازمین، پنشنرز اور ان کے شریک حیات کو پروگرام سے خارج کر دیا گیا تھا۔

ادائیگیوں کی تفصیلات

آڈٹ رپورٹ میں مختلف کیٹیگریز کے تحت کی جانے والی ادائیگیوں کی تفصیل بھی شامل ہے۔

رپورٹ کے مطابق گریڈ 1 سے 16 تک کے 673 سرکاری ملازمین کو 25.20 ملین روپے ادا کیے گئے، جبکہ گریڈ 17 کے 8 ملازمین کو 0.09 ملین روپے کی ادائیگی کی گئی۔

سرکاری ملازمین کے شریک حیات

گریڈ 1 سے 16 کے حاضر سروس ملازمین کے 9,124 شریک حیات کو 402.80 ملین روپے فراہم کیے گئے، جبکہ گریڈ 17 سے 20 تک کے ملازمین کے 87 شریک حیات کو 2.54 ملین روپے ادا کیے گئے۔

آڈیٹر جنرل کی رپورٹ میں مالی بے ضابطگیوں کا انکشاف، 3177 ارب روپے پارلیمانی منظوری کے بغیر خرچ

پنشنرز اور ان کے شریک حیات

رپورٹ کے مطابق گریڈ 1 سے 16 کے 218 پنشنرز کو 7.41 ملین روپے جبکہ گریڈ 17 سے 18 کے 22 پنشنرز کو 0.70 ملین روپے فراہم کیے گئے۔

اسی طرح گریڈ 1 سے 16 کے 1,847 پنشنرز کے شریک حیات کو 74.16 ملین روپے اور گریڈ 17 سے 20 کے 107 پنشنرز کے شریک حیات کو 2.81 ملین روپے ادا کیے گئے۔

ڈی اے سی کی کارروائی اور ہدایات

ڈپارٹمنٹل اکاؤنٹس کمیٹی (DAC) نے آڈٹ اعتراضات کا جائزہ لینے کے بعد متعلقہ افراد کی فوری بلاکنگ اور غیر مستحق طور پر ادا کی گئی رقوم کی واپسی کی ہدایت جاری کر دی ہے۔

کمیٹی نے پروگرام انتظامیہ کو ہدایت دی ہے کہ مستفیدین کے ڈیٹا کی دوبارہ جانچ پڑتال کی جائے اور ایسے تمام افراد کو فہرست سے خارج کیا جائے جو مقررہ معیار پر پورا نہیں اترتے۔

شفافیت اور نگرانی کے نظام پر سوالات

بینظیر انکم سپورٹ پروگرام پاکستان کا سب سے بڑا سماجی تحفظ کا منصوبہ سمجھا جاتا ہے، جس کے ذریعے لاکھوں مستحق خاندانوں کو مالی معاونت فراہم کی جاتی ہے۔ تاہم آڈٹ رپورٹ میں سامنے آنے والے انکشافات نے مستحقین کی جانچ پڑتال، ڈیٹا ویریفکیشن اور نگرانی کے موجودہ نظام کی مؤثریت پر سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ عوامی فنڈز کے مؤثر استعمال اور مستحق افراد تک امداد کی فراہمی کو یقینی بنانے کے لیے ڈیجیٹل نگرانی، ڈیٹا انضمام اور باقاعدہ آڈٹ کے نظام کو مزید مضبوط بنانا ضروری ہے۔

اصلاحات کی ضرورت

آڈٹ رپورٹ کے بعد توقع کی جا رہی ہے کہ پروگرام کے اندراجی نظام، مستحقین کی تصدیق کے طریقہ کار اور مالی نگرانی کے ڈھانچے میں مزید اصلاحات متعارف کرائی جائیں گی تاکہ مستقبل میں ایسی بے ضابطگیوں کو روکا جا سکے اور امدادی رقوم صرف حقیقی مستحقین تک پہنچ سکیں۔

شیئر کریں:

ہمیں فالو کریں

frontpage hit counter