وزیراعظم کے مشیر Rana Sanaullah نے کہا ہے کہ آزاد کشمیر میں عوام کو بجلی انتہائی کم نرخوں پر فراہم کی جا رہی ہے، جبکہ ملک کے دیگر حصوں میں بجلی کی قیمت اس کے مقابلے میں کہیں زیادہ ہے۔
سینیٹ میں خطاب کرتے ہوئے رانا ثنا اللہ نے کہا کہ آزاد کشمیر ایکشن کمیٹی کسی سیاسی جماعت کا حصہ نہیں اور نہ ہی اس کے ارکان انتخابی سیاست میں حصہ لینے کے خواہاں ہیں۔ تاہم ان کے بعض مطالبات ریاستی اور آئینی معاملات سے متعلق ہیں جن پر سنجیدگی سے غور کیا جا رہا ہے۔
انہوں نے بتایا کہ ایکشن کمیٹی کی جانب سے مہاجرین کی مخصوص نشستوں کے خاتمے اور حلف نامے میں الحاقِ پاکستان سے متعلق شق کو ختم کرنے کا مطالبہ کیا گیا۔ ان کے مطابق حکومت نے ہمیشہ مذاکرات کے ذریعے مسئلے کے حل کو ترجیح دی، لیکن بعض مواقع پر احتجاجی قیادت نے سخت مؤقف اختیار کیا۔
رانا ثنا اللہ کا کہنا تھا کہ عید کے تیسرے روز بھی مذاکرات کا ایک دور منعقد ہوا، جس سے قبل حکومت کی جانب سے کمیٹی کے 37 مطالبات پر تفصیلی جواب دیا جا چکا تھا۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ جب مذاکراتی کمیٹی کی حیثیت پر بات کی گئی تو ایکشن کمیٹی نے اسے تسلیم کرنے سے انکار کر دیا۔
انہوں نے مزید کہا کہ حکومت تصادم یا کشیدگی کے بجائے بات چیت کے ذریعے معاملات طے کرنا چاہتی تھی۔ اس مقصد کے لیے عوامی رائے جاننے کی خاطر انتخابات کے ساتھ ریفرنڈم کرانے کی تجویز بھی دی گئی، تاہم اس تجویز پر بھی اتفاق نہ ہو سکا۔
رانا ثنااللہ کا مؤقف: کشمیر کے پاکستان سے الحاق سے متعلق شق نکالنے کا مطالبہ کیا گیا تھا
وزیراعظم کے مشیر نے کہا کہ آل پارٹیز کانفرنس کے انعقاد کی تجویز بھی سامنے رکھی گئی لیکن اس حوالے سے بھی کوئی مثبت جواب موصول نہیں ہوا۔ ان کے مطابق ایکشن کمیٹی نے اعلان کیا تھا کہ وہ ہر صورت 9 جون کو مظفرآباد پہنچے گی۔
رانا ثنا اللہ نے واضح کیا کہ حکومت کسی بھی صورت مہاجرین کو ان کے ووٹ کے حق اور سیاسی نمائندگی سے محروم کرنے کے حق میں نہیں ہے، اور اس حوالے سے آئینی و جمہوری اصولوں کا مکمل تحفظ کیا جائے گا۔
