اسلام آباد: حکومت نے بینظیر انکم سپورٹ پروگرام (بی آئی ایس پی) کے تحت مستحق خاندانوں کے لیے سہ ماہی قسط میں اضافہ کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ آئندہ مالی سال سے پروگرام کی قسط 18 ہزار روپے کر دی جائے گی، جس کا مقصد مہنگائی کے دباؤ میں کمی اور کم آمدنی والے طبقے کی مالی معاونت کو بہتر بنانا ہے۔
یہ اعلان بی آئی ایس پی کی چیئرپرسن سینیٹر روبینہ خالد کی جانب سے کیا گیا، جنہوں نے کہا کہ یہ پروگرام ملک کے غریب اور مستحق خاندانوں کے لیے معاشی تحفظ اور عزتِ نفس کا ایک اہم ذریعہ ہے۔
قسط میں اضافہ اور حکومتی پالیسی
چیئرپرسن کے مطابق حکومت نے فیصلہ کیا ہے کہ آئندہ مالی سال سے بی آئی ایس پی کی سہ ماہی مالی امداد 18 ہزار روپے کر دی جائے گی۔ اس فیصلے کو بڑھتی ہوئی مہنگائی اور کم آمدنی والے گھرانوں کی ضروریات کو مدنظر رکھتے ہوئے اہم قدم قرار دیا جا رہا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ پروگرام کے خلاف منفی پروپیگنڈہ کیا جا رہا ہے، تاہم حقیقت یہ ہے کہ بی آئی ایس پی ملک میں سماجی تحفظ کے سب سے بڑے اور مؤثر منصوبوں میں سے ایک ہے۔
ادائیگیوں کا نیا ڈیجیٹل نظام
حکومت نے بی آئی ایس پی کی ادائیگیوں کے نظام میں بھی بڑی تبدیلی کا فیصلہ کیا ہے۔ چیئرپرسن کے مطابق جولائی سے تمام ادائیگیاں صرف ڈیجیٹل والٹس کے ذریعے کی جائیں گی، جس سے شفافیت میں اضافہ ہوگا اور مستحق افراد کو رقم کے حصول میں آسانی ہوگی۔
پیپلز پارٹی اور ن لیگ میں مالیاتی مفاہمت، این ایف سی ایوارڈ اور بی آئی ایس پی برقرار رکھنے پر اتفاق
اس اقدام کے تحت روایتی کیش ادائیگی کے نظام کو مرحلہ وار ختم کیا جائے گا اور جدید ڈیجیٹل مالیاتی نظام کو فروغ دیا جائے گا۔
شفافیت اور سہولت کا دعویٰ
حکام کا کہنا ہے کہ ڈیجیٹل والٹس کے ذریعے ادائیگیوں سے نہ صرف بدعنوانی کے امکانات کم ہوں گے بلکہ مستحق افراد کو قطاروں اور دفاتر کے چکر لگانے سے بھی نجات ملے گی۔ اس کے علاوہ رقم کی بروقت اور محفوظ ترسیل کو بھی یقینی بنایا جا سکے گا۔
سماجی تحفظ کے نظام میں اہم پیش رفت
پاکستان میں بی آئی ایس پی کو سماجی تحفظ کے سب سے بڑے پروگرام کے طور پر دیکھا جاتا ہے، جو لاکھوں مستحق خاندانوں کو مالی معاونت فراہم کرتا ہے۔ ماہرین کے مطابق قسط میں اضافہ اور ڈیجیٹل نظام کی طرف منتقلی اس پروگرام کو مزید مؤثر اور جدید بنانے کی سمت ایک اہم پیش رفت ہے۔
آئندہ چیلنجز اور توقعات
اگرچہ اس فیصلے کو مثبت قرار دیا جا رہا ہے، تاہم ماہرین کا کہنا ہے کہ ڈیجیٹل والٹس کے نفاذ کے دوران دیہی علاقوں میں رسائی، ٹیکنالوجی کی دستیابی اور آگاہی جیسے چیلنجز کو بھی مدنظر رکھنا ضروری ہوگا۔
حکومت کی جانب سے امید ظاہر کی جا رہی ہے کہ یہ اصلاحات بی آئی ایس پی کو مزید شفاف، مؤثر اور عوام دوست بنانے میں مددگار ثابت ہوں گی۔
