شدید گرمی کے موسم میں ہیٹ اسٹروک ایک سنگین طبی مسئلہ بن سکتا ہے۔ اس کی عام علامات میں بہت زیادہ پسینہ آنا، سر درد، چکر آنا، متلی، دل کی دھڑکن کا تیز ہونا اور جلد کا سرخ ہو جانا شامل ہیں۔ یہ علامات اس بات کا اشارہ ہوتی ہیں کہ جسم زیادہ گرم ہو کر اپنی نارمل کارکردگی برقرار نہیں رکھ پا رہا۔
لال پیاز کو “سپر فوڈ” کیوں کہا جا رہا ہے؟
حالیہ سائنسی تحقیقات کے مطابق گرمیوں میں لال پیاز کا استعمال جسم کو گرمی کے اثرات سے بچانے میں مددگار ثابت ہو سکتا ہے۔ ماہرین غذائیت اور مختلف تحقیقی جرائد میں شائع مطالعات کے مطابق لال پیاز میں موجود قدرتی اجزا اسے ایک مفید غذائی جزو بناتے ہیں۔
تحقیقاتی رپورٹس کے مطابق لال پیاز میں پروٹین، فینولک مرکبات، فلیونوئیڈز اور طاقتور اینٹی آکسیڈنٹس موجود ہوتے ہیں جو جسم کو آکسیڈیٹو اسٹریس اور گرمی کے منفی اثرات سے محفوظ رکھنے میں کردار ادا کرتے ہیں۔
پانی اور الیکٹرولائٹس کی موجودگی
جرنل آف فوڈ میجرمنٹ اینڈ کریکٹرائزیشن میں شائع ایک تحقیق کے مطابق لال پیاز میں پانی اور الیکٹرولائٹس کی اچھی مقدار موجود ہوتی ہے۔ یہ خصوصیت جسم میں پانی کی کمی (ڈی ہائیڈریشن) کو کم کرنے میں مدد دیتی ہے، جو شدید گرمی میں ایک عام مسئلہ ہے۔
نظامِ ہاضمہ پر اثرات
ماہرین کے مطابق گرمی کے دوران انسانی نظامِ ہاضمہ بھی متاثر ہو سکتا ہے۔ اس حوالے سے لال پیاز کا استعمال ہاضمے کو بہتر رکھنے میں مددگار سمجھا جاتا ہے۔ یہ آنتوں کے قدرتی توازن کو برقرار رکھنے اور گرمی کے باعث پیدا ہونے والی خرابیوں سے بچانے میں معاون ثابت ہو سکتی ہے۔
جیلوں میں قیدیوں کو ہیٹ اسٹروک سے بچانے کے لیے اقدامات کی ہدایت
ماہرین غذائیت کی رائے
ماہر غذائیت روجوتا دیویکر کے مطابق لال پیاز کو گرمیوں میں کچی صورت میں سلاد کے طور پر استعمال کیا جا سکتا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ یہ نہ صرف جسم کو ٹھنڈک فراہم کرتی ہے بلکہ معدے کے نظام کو بھی بہتر رکھنے میں مدد دیتی ہے اور نقصان دہ بیکٹیریا کے اثرات سے کچھ حد تک تحفظ فراہم کر سکتی ہے۔
احتیاط ضروری ہے
اگرچہ لال پیاز کو ایک مفید غذائی جزو قرار دیا جا رہا ہے، تاہم ماہرین یہ بھی واضح کرتے ہیں کہ ہیٹ اسٹروک سے مکمل بچاؤ کے لیے صرف ایک خوراک پر انحصار کافی نہیں۔ مناسب پانی پینا، دھوپ سے بچاؤ، ہلکی غذا اور مناسب لباس بھی اتنے ہی اہم ہیں۔
مجموعی طور پر تحقیق یہ ظاہر کرتی ہے کہ لال پیاز ایک فائدہ مند غذائی عنصر ہو سکتا ہے جو گرمیوں میں جسمانی توازن برقرار رکھنے میں مدد دے سکتا ہے، تاہم اسے ایک مکمل حفاظتی علاج کے بجائے ایک معاون غذا کے طور پر دیکھا جانا چاہیے۔
