آپریشن بنیان المرصوص پاکستانی اتحاد اور حوصلے کی علامت تھا، شاہد آفریدی

تازہ ترین خبروں اور تبصروں کیلئے ہمارا وٹس ایپ چینل جوائن کریں

پاکستانی کرکٹ ٹیم کے سابق کپتان Shahid Afridi نے بھارت کے خلاف کیے گئے مبینہ آپریشن “بنیان المرصوص” کی ایک سالہ تکمیل پر اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے اسے قومی غیرت، اتحاد اور ایمان کی علامت قرار دیا ہے۔ انہوں نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری بیان میں کہا کہ اس آپریشن کی یاد آج بھی پاکستانی قوم کے دلوں میں زندہ ہے۔

latest urdu news

“دل ایک ہوں تو قوم ناقابلِ شکست بن جاتی ہے”

شاہد آفریدی نے اپنے پیغام میں لکھا کہ وہ صف اللہ کو پسند ہے جس میں دل، قدم اور ارادے ایک ہوں۔ ان کے مطابق “آپریشن بنیان المرصوص” صرف ایک عسکری کارروائی نہیں تھا بلکہ یہ پاکستانی قوم کے اتحاد، پاک فوج کی بہادری اور اللہ کی مدد کی نشانی تھا۔

انہوں نے کہا کہ جب قوم متحد ہو جائے تو بڑے سے بڑا چیلنج بھی شکست کھا جاتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ پاکستان نے ہمیشہ امن، برداشت اور انسانیت کا پیغام دیا ہے، تاہم جب ملکی سلامتی اور وقار کو خطرہ لاحق ہو تو پوری قوم ایک مضبوط دیوار بن جاتی ہے۔

امن کا پیغام، مگر دفاع پر کوئی سمجھوتہ نہیں

سابق کپتان نے اپنے بیان میں اس بات پر بھی زور دیا کہ دنیا کو اس وقت نفرت اور تصادم کے بجائے امن اور برداشت کی ضرورت ہے۔ ان کے مطابق پاکستان ہمیشہ خطے میں امن کے قیام کی بات کرتا آیا ہے، لیکن دفاعِ وطن کے معاملے پر قوم کبھی پیچھے نہیں ہٹتی۔

آپریشن بنیان المرصوص” پر فلم بنانے کا مطالبہ زور پکڑ نے لگا

انہوں نے مزید کہا کہ اس آپریشن نے دنیا کو یہ پیغام دیا کہ اصل طاقت صرف ہتھیاروں میں نہیں ہوتی بلکہ اتحاد، ایمان اور سچائی میں بھی بے پناہ قوت موجود ہوتی ہے۔

سوشل میڈیا پر ردعمل

شاہد آفریدی کے بیان کے بعد سوشل میڈیا پر مختلف صارفین کی جانب سے ردعمل سامنے آیا۔ بعض صارفین نے ان کے پیغام کو قومی یکجہتی کا اظہار قرار دیا، جبکہ کئی افراد نے پاک فوج اور سکیورٹی اداروں کی قربانیوں کو خراجِ تحسین پیش کیا۔

پاکستان میں قومی سلامتی اور دفاعی معاملات پر عوامی جذبات عموماً خاصے مضبوط سمجھے جاتے ہیں، اور اہم قومی مواقع پر معروف شخصیات کے بیانات سوشل میڈیا پر تیزی سے توجہ حاصل کرتے ہیں۔

قومی بیانیے میں اتحاد کی اہمیت

تجزیہ کاروں کے مطابق ایسے بیانات عوامی سطح پر اتحاد، حوصلے اور قومی یکجہتی کے پیغام کو تقویت دیتے ہیں۔ خاص طور پر کھیل، شوبز اور دیگر شعبوں سے تعلق رکھنے والی معروف شخصیات جب قومی معاملات پر اظہارِ خیال کرتی ہیں تو ان کے خیالات نوجوان نسل تک بھی تیزی سے پہنچتے ہیں۔

شیئر کریں:

ہمیں فالو کریں

frontpage hit counter