امریکا کا مؤقف برقرار، ’پروجیکٹ فریڈم‘ کے ذریعے آبنائے ہرمز کھولنے کا اعلان

تازہ ترین خبروں اور تبصروں کیلئے ہمارا وٹس ایپ چینل جوائن کریں

واشنگٹن: امریکی وزیرِ جنگ Pete Hegseth نے کہا ہے کہ ایران کے ساتھ جنگ بندی اب بھی برقرار ہے اور امریکا براہِ راست جنگ نہیں چاہتا، تاہم آبنائے ہرمز میں بحری آمدورفت کی بحالی کے لیے اقدامات جاری رہیں گے۔ ان کے مطابق ’پروجیکٹ فریڈم‘ ایک محدود اور عارضی بحری آپریشن ہے جس کا مقصد عالمی تجارت کے لیے اس اہم راستے کو محفوظ بنانا ہے۔

latest urdu news

پینٹاگون میں میڈیا بریفنگ دیتے ہوئے انہوں نے واضح کیا کہ صدر Donald Trump نے کسی دباؤ میں آ کر فیصلے نہیں کیے اور امریکا اس وقت بھی مضبوط پوزیشن میں ہے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ اگر ایران نے حملے جاری رکھے تو اسے سخت ردعمل کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔

پیٹ ہیگسیتھ کا کہنا تھا کہ ایران کی کارروائیاں صرف ایک ملک کے خلاف نہیں بلکہ عالمی جہاز رانی کے لیے خطرہ بن چکی ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ متعدد تجارتی جہاز آبنائے ہرمز سے گزرنے کے منتظر ہیں اور امریکا ان کی محفوظ نقل و حرکت یقینی بنانے کے لیے سرگرم ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ ’پروجیکٹ فریڈم‘ کا آغاز جنگ بندی کے خاتمے کا اشارہ نہیں بلکہ ایک الگ مشن ہے، جس کا مقصد صرف تجارتی جہازوں کو ممکنہ خطرات سے بچانا ہے۔ ان کے مطابق امریکا کو امید ہے کہ جاپان، جنوبی کوریا اور یورپی ممالک بھی اس کوشش میں اس کا ساتھ دیں گے۔

آبنائے ہرمز میں بحری سلامتی کے لیے امریکا متحرک، نئے عالمی اتحاد کی تیاری

اس موقع پر امریکی فوج کے چیئرمین جوائنٹ چیفس آف اسٹاف Dan Caine نے بتایا کہ جنگ بندی کے بعد بھی ایران کی جانب سے متعدد بار امریکی افواج اور تجارتی جہازوں کو نشانہ بنانے کی کوشش کی گئی۔ ان کا کہنا تھا کہ ان کارروائیوں کو کم شدت کی اشتعال انگیزی قرار دیا جا سکتا ہے، تاہم صورتحال پر مسلسل نظر رکھی جا رہی ہے۔

انہوں نے واضح کیا کہ کسی بڑی جنگ کا فیصلہ عسکری نہیں بلکہ سیاسی قیادت کرے گی۔ ادھر خطے میں حالیہ جھڑپوں نے پہلے سے موجود کشیدگی کو مزید بڑھا دیا ہے، جبکہ ماہرین خبردار کر رہے ہیں کہ اگر حالات قابو میں نہ رہے تو اس کے اثرات عالمی معیشت اور تیل کی قیمتوں پر بھی پڑ سکتے ہیں۔

شیئر کریں:

ہمیں فالو کریں

frontpage hit counter