امریکی انتظامیہ نے Strait of Hormuz میں جہاز رانی کے تحفظ اور تجارتی سرگرمیوں کی بحالی کے لیے ایک نئے بین الاقوامی بحری اتحاد کے قیام کی کوششیں تیز کر دی ہیں۔ اس پیش رفت کی تصدیق عالمی میڈیا رپورٹس میں کی گئی ہے۔
رپورٹس کے مطابق امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے 28 اپریل کو ’میری ٹائم فریڈم کنسٹرکٹ‘ نامی فریم ورک کی منظوری دے دی ہے، جس کا مقصد خطے میں بحری سلامتی کو مستحکم بنانا ہے۔ یہ منصوبہ امریکی محکمہ خارجہ اور Pentagon کا مشترکہ اقدام قرار دیا جا رہا ہے۔
اس مجوزہ اتحاد کے تحت امریکی محکمہ خارجہ شراکت دار ممالک اور شپنگ انڈسٹری کے درمیان سفارتی رابطوں کا مرکز بنے گا، جبکہ پینٹاگون فلوریڈا میں قائم سینٹرل کمانڈ ہیڈکوارٹر سے سمندری سرگرمیوں کی نگرانی کرے گا اور آبنائے ہرمز سے گزرنے والے جہازوں سے براہ راست رابطہ رکھے گا۔
دستاویز کے مطابق اس اتحاد کا مقصد نہ صرف جنگ کے بعد بحری استحکام کو یقینی بنانا ہے بلکہ توانائی کے تحفظ، اہم بحری ڈھانچے کی حفاظت اور عالمی تجارتی راستوں کو محفوظ بنانا بھی اس کا حصہ ہے۔
ٹرمپ کا دعویٰ: ایران دباؤ میں، آبنائے ہرمز فوری کھلوانے کی خواہش
امریکی سفارت خانوں کو ہدایت دی گئی ہے کہ وہ مختلف ممالک کو اس اتحاد میں شامل ہونے کی دعوت دیں، تاہم واضح کیا گیا ہے کہ Russia، China، Belarus اور Cuba جیسے ممالک اس میں شامل نہیں ہوں گے۔
حکام کے مطابق اس اتحاد میں شمولیت مختلف سطحوں پر ہو سکتی ہے، جن میں سفارتی تعاون، معلومات کا تبادلہ، پابندیوں پر عملدرآمد یا بحری موجودگی شامل ہیں۔
واضح رہے کہ آبنائے ہرمز عالمی سطح پر توانائی کی ترسیل کے لیے انتہائی اہم گزرگاہ ہے، جہاں سے دنیا کے تیل اور گیس کا بڑا حصہ گزرتا ہے۔ امریکا کی جانب سے یہ اقدام ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب خطے میں کشیدگی برقرار ہے اور ڈونلڈ ٹرمپ کی پالیسیوں کے تحت ایران پر دباؤ بڑھانے کی حکمت عملی جاری ہے۔
