ایران نے امریکی حملوں میں خلیج فارس کے پانچ عرب ممالک کی سرزمین اور فضائی حدود کے استعمال پر شدید ردعمل دیتے ہوئے اقوام متحدہ میں باقاعدہ احتجاج ریکارڈ کرا دیا ہے۔
اقوام متحدہ میں ایران کے مستقل مندوب امیر سعید ایروانی نے سیکریٹری جنرل اور سلامتی کونسل کے صدر کو بھیجے گئے خطوط میں مؤقف اختیار کیا کہ امریکا نے ایران کے خلاف کارروائیوں کے دوران خطے کے ممالک کی سرزمین کو غیر قانونی طور پر استعمال کیا۔
ایرانی مؤقف کے مطابق قطر، بحرین، متحدہ عرب امارات، سعودی عرب اور کویت کو بطور ہمسایہ ممالک اپنی عالمی ذمہ داری ادا کرتے ہوئے اپنی سرزمین کسی تیسرے ملک کے خلاف استعمال نہیں ہونے دینی چاہیے۔
ایران نے الزام عائد کیا کہ امریکی اور اسرائیلی افواج نے مختلف جدید جنگی طیاروں کے ذریعے حملوں کے دوران عرب ممالک کی حدود استعمال کیں۔ تہران کے مطابق یہ کارروائیاں "بلا اشتعال جارحیت” کے زمرے میں آتی ہیں، جس کا آغاز فروری کے آخر میں ہوا۔
اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں ٹرمپ کے غزہ منصوبے کی حمایت میں قرارداد منظور
ایرانی حکام کا کہنا ہے کہ ان حملوں کے جواب میں ایرانی مسلح افواج نے خطے میں امریکی اور اسرائیلی اہداف پر متعدد جوابی کارروائیاں کیں۔
یاد رہے کہ تقریباً 40 روزہ کشیدگی کے بعد جنگ بندی عمل میں آئی تھی، تاہم ایران اور امریکا کے درمیان مذاکرات تاحال تعطل کا شکار ہیں۔ ایران نے مذاکرات میں پیش رفت نہ ہونے کی وجہ امریکی مطالبات اور بحری ناکہ بندی کو قرار دیا ہے، جو خطے میں کشیدگی برقرار رکھنے کا سبب بن رہی ہے۔
