سینیئر ایرانی حکام نے عندیہ دیا ہے کہ اگر امریکہ اپنی دھمکی آمیز پالیسی ترک کرے تو ایران پاکستان میں ممکنہ مذاکرات میں شرکت پر غور کر سکتا ہے۔
برطانوی خبر رساں ادارے رائٹرز سے گفتگو کرتے ہوئے ایرانی حکام کا کہنا تھا کہ امریکہ مسئلے کے حل کے بجائے مسلسل نئی رکاوٹیں کھڑی کر رہا ہے، جس سے سفارتی عمل متاثر ہو رہا ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ اگر واشنگٹن دباؤ اور دھمکیوں کا سلسلہ بند کرے تو ایران بات چیت کے لیے آمادہ ہو سکتا ہے، اور اس سلسلے میں پاکستان ایک ممکنہ میزبان کے طور پر سامنے آ سکتا ہے۔
ہرمز تنازع پر بیان بازی تیز: امریکا اور ایران کے مؤقف میں واضح اختلاف
ایرانی حکام کے مطابق موجودہ صورتحال میں سنجیدہ اور بامقصد مذاکرات ہی خطے میں کشیدگی کم کرنے کا واحد راستہ ہیں، تاہم اس کے لیے ضروری ہے کہ تمام فریقین مثبت رویہ اختیار کریں۔
