آسٹریلیا نے اپنی 125 سالہ عسکری تاریخ میں ایک اہم سنگ میل عبور کرتے ہوئے پہلی بار ایک خاتون کو آرمی چیف مقرر کر دیا ہے۔ یہ فیصلہ نہ صرف ملک کی دفاعی پالیسی میں ایک بڑی تبدیلی سمجھا جا رہا ہے بلکہ فوجی اداروں میں صنفی برابری کی جانب بھی ایک نمایاں قدم قرار دیا جا رہا ہے۔
لیفٹیننٹ جنرل سوزان کوئیل کی تقرری
غیر ملکی خبر رساں اداروں کے مطابق آسٹریلوی حکومت نے دفاعی قیادت میں اہم رد و بدل کرتے ہوئے لیفٹیننٹ جنرل سوزان کوئیل کو آرمی چیف مقرر کیا ہے۔ وہ رواں برس جولائی میں باضابطہ طور پر اپنی ذمہ داریاں سنبھالیں گی۔ اس موقع پر وہ موجودہ آرمی چیف لیفٹیننٹ جنرل سائمن اسٹیورٹ کی جگہ لیں گی۔
یہ تقرری آسٹریلین آرمی کی تاریخ میں ایک غیر معمولی پیش رفت ہے کیونکہ اس سے قبل اس سطح پر کوئی خاتون افسر تعینات نہیں کی گئی۔
40 سالہ شاندار فوجی کیریئر
لیفٹیننٹ جنرل سوزان کوئیل کا فوجی کیریئر تقریباً 40 سال پر محیط ہے۔ اس دوران انہوں نے مختلف اہم اور حساس ذمہ داریاں انجام دیں۔ وہ افغانستان میں فوجی آپریشنز اور مشرق وسطیٰ میں تعیناتی جیسے اہم مشنز کا حصہ رہ چکی ہیں۔ اس کے علاوہ وہ کئی اعلیٰ انتظامی اور عسکری عہدوں پر بھی خدمات انجام دیتی رہی ہیں، جس نے ان کے تجربے اور قیادت کو مزید مضبوط بنایا۔
فوج میں خواتین کا کردار اور چیلنجز
بین الاقوامی میڈیا رپورٹس کے مطابق یہ تقرری آسٹریلین آرمی میں خواتین افسران کی تعداد بڑھانے کی ایک کوشش بھی سمجھی جا رہی ہے۔ اگرچہ فوج میں خواتین کی شمولیت میں اضافہ ہوا ہے، تاہم ماضی میں خواتین اہلکاروں کے ساتھ ہراسانی اور امتیازی سلوک سے متعلق سنگین الزامات بھی سامنے آتے رہے ہیں۔
اسی پس منظر میں یہ فیصلہ ادارہ جاتی اصلاحات اور بہتر ماحول کی جانب ایک اہم قدم تصور کیا جا رہا ہے۔
حکومتی ردِعمل اور اہمیت
آسٹریلیا کے وزیرِاعظم انتھونی البانیز نے اس فیصلے کو ایک تاریخی لمحہ قرار دیا ہے۔ ان کے مطابق یہ اقدام نہ صرف آسٹریلین فوج بلکہ پورے ملک کے لیے باعثِ فخر ہے۔ وزیر دفاع رچرڈ مارلس نے بھی لیفٹیننٹ جنرل سوزان کوئیل کی تقرری کو ایک اہم اور تاریخی پیش رفت قرار دیا ہے۔
مجموعی طور پر یہ تبدیلی آسٹریلیا کی دفاعی تاریخ میں ایک نئے باب کا آغاز سمجھی جا رہی ہے، جو مستقبل میں فوجی قیادت کے ڈھانچے پر بھی اثر انداز ہو سکتی ہے۔
