ایران کی پارلیمنٹ کے اسپیکر محمد باقر قالیباف نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے آبنائے ہرمز کی ناکہ بندی سے متعلق بیان پر سخت ردعمل دیتے ہوئے طنزیہ انداز اختیار کیا ہے۔ ان کے بیان نے دونوں ممالک کے درمیان پہلے سے موجود کشیدگی کو مزید نمایاں کر دیا ہے۔
قالیباف کا طنزیہ بیان
محمد باقر قالیباف نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم “ایکس” (سابق ٹوئٹر) پر ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ “نام نہاد ناکہ بندی کے بعد جلد ہی آپ 4 سے 5 ڈالر والے پیٹرول کو یاد کریں گے۔”
ان کا یہ بیان امریکی پالیسیوں پر طنز کے طور پر دیکھا جا رہا ہے، جس میں انہوں نے عالمی توانائی کی قیمتوں اور خطے میں ممکنہ اثرات کی طرف اشارہ کیا۔
سخت وارننگ اور ایران کا مؤقف
قالیباف نے اپنے بیان میں امریکی قیادت کو خبردار کرتے ہوئے کہا کہ ایران کے عزم کو دوبارہ آزمانے کی کوشش نہ کی جائے۔ ان کے مطابق کسی بھی “غلطی” کی صورت میں ایران پہلے سے زیادہ سخت جواب دے گا۔
Enjoy the current pump figures. With the so-called ‘blockade’, Soon you’ll be nostalgic for $4–$5 gas.
ΔO_BSOH>0 ⇒ f(f(O))>f(O) pic.twitter.com/rVxlC6vFWG
— محمدباقر قالیباف | MB Ghalibaf (@mb_ghalibaf) April 12, 2026
انہوں نے واضح کیا کہ اگر امریکا جنگی راستہ اختیار کرتا ہے تو ایران بھی اسی طرح جواب دے گا، تاہم اگر مذاکرات اور منطق کا راستہ اپنایا گیا تو ایران بھی بات چیت کے لیے تیار ہے۔
آبنائے ہرمز اور عالمی خدشات
یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب آبنائے ہرمز سے متعلق کشیدگی پہلے ہی بڑھ چکی ہے۔ یہ سمندری راستہ عالمی تیل کی ترسیل کے لیے انتہائی اہم سمجھا جاتا ہے، اور کسی بھی قسم کی رکاوٹ عالمی منڈیوں میں توانائی کی قیمتوں پر فوری اثر ڈال سکتی ہے۔
ٹرمپ کی دھمکی پر ایران کا سخت ردعمل، قالیباف کا دوٹوک مؤقف
ماہرین کے مطابق اس نوعیت کے بیانات نہ صرف سیاسی درجہ حرارت بڑھاتے ہیں بلکہ عالمی توانائی مارکیٹ میں غیر یقینی صورتحال بھی پیدا کرتے ہیں۔
سفارتی پیش رفت کا دعویٰ
دوسری جانب ایرانی وفد نے کہا ہے کہ مذاکرات کے دوران ایران نے اپنی نیک نیتی ظاہر کرنے کے لیے اہم اقدامات کیے ہیں، جس کے نتیجے میں بعض امور پر پیش رفت بھی ہوئی ہے۔
مجموعی صورتحال
ٹرمپ کے بیان اور قالیباف کے ردعمل کے بعد صورتحال مزید پیچیدہ ہوتی دکھائی دے رہی ہے۔ ایک طرف سخت بیانات اور دھمکی آمیز لہجہ ہے، جبکہ دوسری طرف مذاکراتی عمل کو جاری رکھنے کی بات بھی کی جا رہی ہے۔
ماہرین کے مطابق آنے والے دنوں میں یہ تنازع نہ صرف خطے بلکہ عالمی توانائی اور سفارتی تعلقات پر بھی گہرے اثرات مرتب کر سکتا ہے۔
