مشرقِ وسطیٰ میں جاری کشیدگی کے درمیان اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو کے حالیہ بیانات نے ایک نیا تنازع کھڑا کر دیا ہے۔ نیتن یاہو نے ایران اور اس کے اتحادیوں کے خلاف کارروائیاں جاری رکھنے کا اعلان کرتے ہوئے ترک صدر رجب طیب اردوان پر ایران کی سہولت کاری کا الزام عائد کیا، جس پر ترکی کی جانب سے سخت ردعمل سامنے آیا ہے۔
نیتن یاہو کے الزامات اور مؤقف
اپنے بیان میں اسرائیلی وزیراعظم نے کہا کہ اسرائیل ایران اور اس کے اتحادیوں کے خلاف اپنی کارروائیاں جاری رکھے گا۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ ترکی کے صدر رجب طیب اردوان ایران کو سہولت فراہم کر رہے ہیں، جس سے خطے میں کشیدگی بڑھ رہی ہے۔
مزید برآں، نیتن یاہو نے کردوں کے خلاف کارروائیوں کے حوالے سے بھی ترک قیادت پر تنقید کی، جس سے دونوں ممالک کے درمیان سفارتی تناؤ میں مزید اضافہ دیکھنے میں آیا۔
ترکی کا سخت ردعمل
ترک صدارتی دفتر کے کمیونیکیشن امور کے سربراہ برہان الدین دوران نے اسرائیلی وزیراعظم کے بیانات کو مسترد کرتے ہوئے سخت الفاظ میں ردعمل دیا۔ انہوں نے کہا کہ نیتن یاہو خود غزہ میں جاری کارروائیوں اور خطے کے دیگر ممالک میں حملوں کے باعث تنقید کا نشانہ ہیں۔
ان کے مطابق نیتن یاہو ترکی کی قیادت کو نشانہ بنا کر اصل مسائل سے توجہ ہٹانے کی کوشش کر رہے ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ اسرائیلی وزیراعظم اپنی سیاسی بقا کے لیے خطے کو مزید کشیدگی اور تصادم کی طرف دھکیل رہے ہیں۔
ایران کا اعلان: آبنائے ہرمز سے گزرنے والے جہازوں پر نیا ٹول نظام نافذ کرنے کا منصوبہ
الزامات اور جوابی بیانات
برہان الدین دوران نے یہ بھی کہا کہ نیتن یاہو کے خلاف بین الاقوامی سطح پر سنگین الزامات موجود ہیں، اور ان کی اخلاقی و قانونی حیثیت پر سوالات اٹھائے جا رہے ہیں۔ ان کے مطابق ایسے حالات میں کسی دوسرے ملک کو تنقید کا نشانہ بنانا مناسب نہیں۔
دوسری جانب اسرائیل کا مؤقف ہے کہ وہ اپنی قومی سلامتی کے تحفظ کے لیے اقدامات کر رہا ہے، اور ایران کے علاقائی کردار کو ایک خطرہ سمجھتا ہے۔
خطے کی مجموعی صورتحال
ایران، اسرائیل اور ترکی کے درمیان بڑھتی ہوئی لفظی جنگ اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ مشرقِ وسطیٰ میں سیاسی اور عسکری تناؤ مزید گہرا ہو رہا ہے۔ یہ صورتحال نہ صرف علاقائی استحکام بلکہ عالمی سفارت کاری کے لیے بھی ایک بڑا چیلنج بن سکتی ہے۔
ماہرین کے مطابق ایسے بیانات اور الزامات سفارتی تعلقات کو مزید پیچیدہ بنا سکتے ہیں، جس کے نتیجے میں کشیدگی کم ہونے کے بجائے بڑھنے کا خدشہ ہے۔
