اسلام آباد میں امریکا کے ساتھ ہونے والے مذاکرات کے اختتام کے بعد ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر اور مذاکراتی وفد کے سربراہ محمد باقر قالیباف کا پہلا باضابطہ بیان سامنے آگیا ہے۔ ان کے مطابق اگرچہ مذاکرات میں مکمل اتفاق نہ ہو سکا، تاہم امریکا نے ایران کے مؤقف اور اصولی نکتہ نظر کو کسی حد تک سمجھ لیا ہے۔
پاکستان کے کردار پر شکریہ
محمد باقر قالیباف نے مذاکراتی عمل کو آسان بنانے میں پاکستان کے کردار کو سراہتے ہوئے اس کا شکریہ ادا کیا۔ ان کے مطابق پاکستان نے دونوں فریقوں کے درمیان رابطے اور بات چیت کو ممکن بنانے میں اہم سہولت کاری کا کردار ادا کیا، جس سے مذاکراتی عمل آگے بڑھ سکا۔
یہ بیان اس بات کی بھی نشاندہی کرتا ہے کہ پاکستان خطے میں سفارتی ثالثی کے کردار میں مسلسل اہمیت حاصل کر رہا ہے۔
ایران کا مؤقف اور اعتماد کا مسئلہ
سوشل میڈیا پر جاری اپنے بیان میں باقر قالیباف نے کہا کہ ایران نے مذاکرات سے قبل ہی یہ واضح کر دیا تھا کہ اس کے پاس نیک نیتی اور واضح ارادہ موجود ہے، تاہم ماضی کے تجربات کی وجہ سے مخالف فریق پر مکمل اعتماد ممکن نہیں تھا۔
ان کے مطابق ایرانی وفد نے مذاکرات میں مستقبل سے متعلق کچھ اہم اقدامات بھی پیش کیے، لیکن دوسری طرف سے اس مرحلے پر اعتماد حاصل کرنے میں ناکامی رہی۔
“امریکا نے منطق سمجھ لی”
ایرانی پارلیمنٹ اسپیکر نے دعویٰ کیا کہ امریکا نے ایران کے دلائل اور اصولی مؤقف کو سمجھ لیا ہے۔ تاہم انہوں نے ساتھ ہی یہ سوال بھی اٹھایا کہ اب فیصلہ امریکا کو کرنا ہوگا کہ آیا وہ ایران کا اعتماد حاصل کرنے کی کوشش کرتا ہے یا نہیں۔
یہ بیان اس بات کی طرف اشارہ کرتا ہے کہ اگرچہ اختلافات برقرار ہیں، لیکن بات چیت نے دونوں فریقوں کو ایک دوسرے کے مؤقف کو بہتر طور پر سمجھنے کا موقع ضرور دیا ہے۔
ایران–امریکا مذاکرات: “آخری اور بہترین آفر” پیش کر دی گئی، فیصلہ ایران پر چھوڑ دیا گیا
سفارت کاری اور دفاعی حکمت عملی
محمد باقر قالیباف نے کہا کہ ایران اپنے قومی حقوق کے تحفظ کے لیے سفارت کاری کو ایک اہم راستہ سمجھتا ہے، تاہم اسے فوجی دفاعی حکمت عملی کے ساتھ بھی جاری رکھا جاتا ہے۔
انہوں نے ایران کو 90 ملین آبادی والا ملک قرار دیتے ہوئے کہا کہ عوام کی قربانیاں اور قومی دفاع میں ان کا کردار قابلِ فخر ہے۔ ان کے مطابق ایران اپنی دفاعی اور سفارتی کوششوں کو مزید مضبوط بنانے کے لیے کام جاری رکھے گا۔
مجموعی صورتحال
اسلام آباد میں ہونے والے یہ مذاکرات ایک بار پھر اس حقیقت کو ظاہر کرتے ہیں کہ ایران اور امریکا کے درمیان اعتماد کا فقدان بنیادی مسئلہ ہے۔ اگرچہ کسی حتمی معاہدے تک پیش رفت نہیں ہو سکی، تاہم دونوں فریق اس بات پر متفق دکھائی دیتے ہیں کہ سفارتی رابطے اور بات چیت کا عمل مکمل طور پر ختم نہیں ہوا۔
