ایران اور امریکا کے درمیان ہونے والے حالیہ مذاکرات کے بارے میں ایرانی وزارت خارجہ نے کہا ہے کہ اگرچہ کچھ معاملات پر پیش رفت ہوئی، تاہم چند اہم اختلافی نکات کے باعث کوئی حتمی معاہدہ طے نہیں پا سکا۔ حکام کے مطابق مذاکرات کو ناکام نہیں بلکہ ایک جاری سفارتی عمل کے طور پر دیکھا جانا چاہیے۔
مذاکرات میں جزوی پیش رفت
ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے بتایا کہ دونوں فریق کئی امور پر اتفاق کے قریب پہنچ گئے تھے۔ ان کے مطابق مذاکرات کے دوران بعض نکات پر مثبت پیش رفت ہوئی، جس سے یہ امید پیدا ہوئی کہ ایک مشترکہ فریم ورک طے کیا جا سکتا ہے۔ تاہم ساتھ ہی یہ بھی واضح ہوا کہ کچھ حساس مسائل پر فریقین کے درمیان بنیادی اختلافات موجود ہیں، جنہیں فوری طور پر حل کرنا ممکن نہیں تھا۔
طویل ترین مذاکراتی دور
ترجمان کے مطابق یہ مذاکرات گزشتہ ایک سال میں ہونے والا سب سے طویل دور تھا، جو تقریباً 24 سے 25 گھنٹے تک جاری رہا۔ اس طویل نشست میں دونوں ممالک کے نمائندوں نے مختلف سیاسی، سکیورٹی اور سفارتی امور پر تفصیلی گفتگو کی۔ طویل دورانیہ اس بات کی علامت سمجھا جا رہا ہے کہ دونوں فریق بات چیت کے عمل کو جاری رکھنے میں سنجیدہ ہیں، تاہم پیچیدگیوں کے باعث حتمی نتیجہ سامنے نہیں آ سکا۔
اختلافی نکات کی نوعیت
اگرچہ متعدد معاملات پر پیش رفت ہوئی، لیکن دو سے تین اہم ایشوز ایسے تھے جن پر اتفاق رائے نہ ہو سکا۔ ان اختلافات نے مجموعی معاہدے کی راہ میں رکاوٹ پیدا کی۔ مزید یہ کہ دیگر کئی امور پر بھی دونوں ممالک کے مؤقف میں واضح فرق موجود رہا، جس کے باعث ایک جامع سمجھوتہ ممکن نہ ہو سکا۔
جے ڈی وینس کا بیان، امریکا بغیر ڈیل واپس روانہ
سفارت کاری کا تسلسل
اسماعیل بقائی نے زور دیا کہ سفارت کاری کبھی ختم نہیں ہوتی بلکہ یہ قومی مفادات کے تحفظ کا مسلسل ذریعہ ہے۔ ان کے مطابق یہ توقع رکھنا درست نہیں تھا کہ ایک ہی نشست میں تمام مسائل حل ہو جائیں گے۔ اسی لیے اس عمل کو ایک طویل اور مرحلہ وار پیش رفت کے طور پر دیکھا جانا چاہیے۔
پاکستان اور علاقائی رابطے
ترجمان نے پاکستان سمیت خطے کے دیگر دوست ممالک کے ساتھ رابطے جاری رکھنے کا بھی عندیہ دیا۔ انہوں نے پاکستان کی حکومت، عوام اور وزیراعظم شہباز شریف کا شکریہ ادا کرتے ہوئے اس سفارتی عمل میں ان کے کردار کو سراہا۔ مجموعی طور پر یہ صورتحال ظاہر کرتی ہے کہ اگرچہ فوری معاہدہ نہیں ہو سکا، لیکن مذاکرات کا دروازہ اب بھی کھلا ہے۔
