ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر Mohammad Bagher Ghalibaf نے واضح کیا ہے کہ ان کا وفد خیر سگالی کے جذبے کے تحت مذاکرات میں شرکت کے لیے آیا ہے، تاہم انہیں امریکا پر مکمل اعتماد نہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ماضی کے تجربات کی بنیاد پر ایران محتاط رویہ اختیار کیے ہوئے ہے۔
مذاکرات سے قبل اپنے بیان میں قالیباف نے چند اہم مطالبات بھی پیش کیے، جن میں Lebanon میں جنگ بندی اور ایران کے منجمد اثاثوں کی بحالی شامل ہیں۔ انہوں نے کہا کہ یہ نکات پہلے سے طے شدہ ہیں، مگر اب تک ان پر عملدرآمد نہیں ہو سکا۔
انہوں نے مزید کہا کہ اگر امریکا ایک سنجیدہ اور قابلِ عمل معاہدہ پیش کرے اور ایران کے جائز حقوق کو تسلیم کرے تو ایران معاہدے کیلئے تیار ہے۔ ان کے مطابق مذاکرات کا مقصد صرف بات چیت نہیں بلکہ عملی پیش رفت ہونا چاہیے۔
امریکا جنگ میں شدت چاہتا ہے تو ایران بھی طویل مقابلے کے لیے تیار ہے: عباس عراقچی
دوسری جانب ایرانی وزیر خارجہ Abbas Araghchi نے بھی امریکا پر زور دیا کہ وہ اپنے وعدوں کی پاسداری کرے۔ انہوں نے کہا کہ امریکا نے لبنان میں جنگ بندی کا وعدہ کیا تھا، جسے پورا کرنا ضروری ہے تاکہ اعتماد کی فضا قائم ہو سکے۔
