ملک میں مہنگائی کے دباؤ کے درمیان گھی اور کوکنگ آئل کی قیمتوں میں نمایاں اضافے کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے، جس سے عوام کی مشکلات میں مزید اضافہ ہو سکتا ہے۔
قیمتوں میں اضافے کی وجوہات
Pakistan Vanaspati Manufacturers Association (پی وی ایم اے) کے مطابق گھی اور تیل کی قیمتوں میں 100 سے 150 روپے فی کلو تک اضافہ متوقع ہے۔ ایسوسی ایشن کا کہنا ہے کہ حالیہ دنوں میں پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے نے صنعت کی پیداواری لاگت کو نمایاں طور پر بڑھا دیا ہے۔
ایسوسی ایشن کے ایڈوائزر کے مطابق ٹرانسپورٹیشن اخراجات میں اضافے کے ساتھ ساتھ فیکٹریوں میں پیداوار کی لاگت بھی بڑھ چکی ہے، جو اب صنعت کے لیے برداشت سے باہر ہو رہی ہے۔
سپلائی چین اور لاگت کا دباؤ
ماہرین کے مطابق خوردنی تیل کی قیمتیں عالمی منڈی سے بھی متاثر ہوتی ہیں، جبکہ مقامی سطح پر ایندھن کی قیمتوں میں اضافہ سپلائی چین کو مزید مہنگا بنا دیتا ہے۔ اس کے نتیجے میں خام مال کی ترسیل سے لے کر تیار مصنوعات کی مارکیٹ تک رسائی تک ہر مرحلے پر اخراجات بڑھ جاتے ہیں۔
یہی وجہ ہے کہ صنعتکار قیمتوں میں اضافے کو ناگزیر قرار دے رہے ہیں۔
جہلم اور دینہ میں ملاوٹ مافیاء کے خلاف ایکشن، 1200 لیٹر مضر صحت جوس اور 110 لیٹر ملاوٹی گھی تلف
حکومتی مداخلت کی تجویز
پی وی ایم اے نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ فوری طور پر ایک خصوصی پینل تشکیل دیا جائے جو بڑھتی ہوئی قیمتوں پر قابو پانے کے لیے عملی اقدامات تجویز کرے۔
ایسوسی ایشن کے مطابق اگر بروقت حکومتی مداخلت نہ کی گئی تو قیمتوں میں مزید اضافہ ہو سکتا ہے، جس کا براہِ راست اثر عام صارفین پر پڑے گا۔
عوام پر ممکنہ اثرات
گھی اور تیل روزمرہ استعمال کی بنیادی اشیاء میں شامل ہیں، اس لیے ان کی قیمتوں میں اضافہ گھریلو بجٹ پر نمایاں اثر ڈالتا ہے۔ خاص طور پر کم اور متوسط آمدنی والے طبقے کے لیے یہ صورتحال مزید مشکلات پیدا کر سکتی ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ حکومت کو نہ صرف قیمتوں کو کنٹرول کرنے بلکہ طویل المدتی پالیسی کے ذریعے خوراک سے متعلق اشیاء کی قیمتوں میں استحکام لانے کی ضرورت ہے تاکہ عوام کو مسلسل بڑھتی مہنگائی سے ریلیف مل سکے۔
