وزیراعظم شہباز شریف نے قوم سے خطاب میں پیٹرول کی قیمت میں نمایاں کمی کا اعلان کرتے ہوئے فی لیٹر 80 روپے لیوی کم کر دی، جس کے بعد نئی قیمت 378 روپے فی لیٹر مقرر کر دی گئی ہے۔ یہ فیصلہ فوری طور پر نافذ العمل ہوگا۔ ساتھ ہی انہوں نے وفاقی کابینہ کی جانب سے تنخواہ نہ لینے کی مدت کو دو ماہ سے بڑھا کر چھ ماہ کرنے کا بھی اعلان کیا۔
وزیراعظم نے اپنے خطاب میں کہا کہ خلیجی خطے میں جاری جنگ کے باعث عالمی منڈی میں تیل کی قیمتیں غیر معمولی حد تک بڑھ چکی ہیں، جس کے اثرات پاکستان سمیت دنیا بھر میں محسوس کیے جا رہے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ اس صورتحال نے عام شہری، کسان اور مزدور طبقے کی مشکلات میں اضافہ کر دیا ہے۔
انہوں نے بتایا کہ حکومت نے عوام کو مہنگائی کے اثرات سے بچانے کے لیے گزشتہ تین ہفتوں کے دوران 129 ارب روپے خرچ کیے تاکہ پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کا بوجھ براہ راست عوام پر منتقل نہ ہو۔ ان کے مطابق حکومت ہر ممکن کوشش کر رہی ہے کہ محدود وسائل کے باوجود عوام کو زیادہ سے زیادہ ریلیف فراہم کیا جائے۔
وزیراعظم نے کہا کہ خطے میں امن کے قیام کے لیے پاکستان مسلسل سفارتی کوششیں کر رہا ہے اور اس مقصد کے لیے اعلیٰ سطح پر مشاورت جاری ہے۔ انہوں نے بتایا کہ حالیہ فیصلے وسیع قومی مشاورت کے بعد کیے گئے ہیں جن میں تمام صوبوں کی قیادت شامل تھی۔
پاکستان میں پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں خطے میں سب سے زیادہ، پیٹرول کی قیمت 1.15 ڈالر فی لیٹر
حکومت نے مختلف شعبوں کے لیے سبسڈی پیکج کا بھی اعلان کیا ہے۔ موٹر سائیکل سواروں کو فی لیٹر 100 روپے سبسڈی دی جائے گی جبکہ مال بردار اور پبلک ٹرانسپورٹ کے لیے بھی ایک ماہ تک فی لیٹر 100 روپے تک امداد فراہم کی جائے گی۔ اس کے علاوہ چھوٹے اور بڑے ٹرکوں اور بسوں کے لیے ماہانہ مالی معاونت بھی مقرر کی گئی ہے تاکہ اشیائے ضروریہ کی قیمتیں قابو میں رکھی جا سکیں۔
زرعی شعبے کے لیے چھوٹے کسانوں کو فی ایکڑ 1500 روپے امداد دینے کا اعلان کیا گیا ہے، جبکہ پاکستان ریلوے کی اکانومی کلاس کے کرایوں میں اضافہ نہ کرنے کا فیصلہ بھی برقرار رکھا گیا ہے تاکہ عام مسافروں کو ریلیف مل سکے۔
آخر میں وزیراعظم نے کہا کہ موجودہ چیلنجز سے نمٹنے کے لیے قومی اتحاد اور مشترکہ کوششیں ناگزیر ہیں اور تمام صوبوں کی قیادت نے اس مشکل وقت میں بھرپور تعاون کا یقین دلایا ہے۔
