انڈین پریمیئر لیگ (آئی پی ایل) کے مہنگے ترین غیر ملکی کھلاڑی، آسٹریلوی آل راؤنڈر کیمرون گرین کو ٹورنامنٹ میں بولنگ کرنے سے روک دیا گیا ہے۔ کیمرون گرین کو 25 کروڑ 20 لاکھ بھارتی روپے میں کولکتہ نائٹ رائیڈرز (کے کے آر) نے خریدا تھا، جو انہیں آئی پی ایل کے تیسرے مہنگے کھلاڑی اور مہنگے ترین اوورسیز پلیئرز میں شامل کرتا ہے۔ تاہم، ممبئی انڈینز کے خلاف میچ میں گرین نے بولنگ نہیں کی، جس پر بھارتی میڈیا میں کئی سوالات اٹھائے گئے۔
کرکٹ آسٹریلیا کا موقف
کرکٹ آسٹریلیا نے اس حوالے سے وضاحت کرتے ہوئے بتایا کہ کیمرون گرین کو کمر کے نچلے حصے میں معمولی انجری کے سبب مختصر مدت کے لیے بولنگ سے روک دیا گیا ہے۔ ترجمان کا کہنا تھا کہ یہ اقدام گرین کی صحت اور بولنگ کے لوڈ کو مدنظر رکھتے ہوئے کیا گیا ہے، تاکہ کھلاڑی کسی طویل المدتی نقصان سے بچ سکیں۔ کرکٹ آسٹریلیا نے کہا کہ کے کے آر کو اس فیصلے کے بارے میں باقاعدہ طور پر آگاہ کر دیا گیا تھا، اور گرین کی بولنگ کی واپسی ممکنہ طور پر 10 سے 12 دن کے اندر متوقع ہے۔
ٹیم اور کپتان کا ردعمل
کے کے آر کے کپتان اجنکیا رہانے نے اس حوالے سے کہا کہ کیمرون گرین کی بولنگ سے غیر حاضری کے بارے میں سوالات کرکٹ آسٹریلیا سے کیے جائیں۔ ممبئی انڈینز کے خلاف ہائی اسکورنگ میچ میں گرین کی بولنگ نہ کرنے پر کئی شائقین اور ماہرین نے تجسس ظاہر کیا، تاہم ٹیم انتظامیہ کی جانب سے کھلاڑی کی حفاظت کو ترجیح دی گئی۔
پی ایس ایل 11: کوئٹہ گلیڈی ایٹرز نے حیدرآباد کنگزمین کے خلاف بیٹنگ کا فیصلہ کیا
آئی پی ایل اور کھلاڑی کی صحت
آئی پی ایل میں کھلاڑیوں کی صحت اور چوٹ کا خیال رکھنا ایک اہم موضوع بن چکا ہے، خاص طور پر مہنگے اور غیر ملکی کھلاڑیوں کے معاملے میں۔ کیمرون گرین کی مثال اس بات کو ظاہر کرتی ہے کہ ٹورنامنٹ میں کھیل کی شدت کے باوجود کھلاڑیوں کی فٹنس اور انجری مینجمنٹ کو اولین ترجیح دی جاتی ہے۔ ایسے اقدامات سے نہ صرف کھلاڑی کی لمبی مدتی کارکردگی محفوظ رہتی ہے بلکہ ٹیم کے لیے بھی مستحکم کھیل ممکن ہوتا ہے۔
