پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) نے "عمران خان ریلیز فورس” بنانے کی تجویز کو اندرونی اعتراضات اور قانونی خدشات کے بعد ختم کر دیا۔ یہ منصوبہ پارٹی کے سخت گیر عناصر کے لیے بڑی ناکامی کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔
منصوبے کا پس منظر
خیبر پختونخوا کے وزیر اعلیٰ سہیل آفریدی نے رمضان سے قبل ایک مخصوص فورس کے قیام کا اعلان کیا تھا جس کا مقصد قید سابق وزیر اعظم عمران خان کی رہائی کے لیے کارکنوں کو منظم کرنا تھا۔
منصوبے میں رضاکاروں کی رجسٹریشن اور حلف برداری شامل تھی، تاکہ ایک باقاعدہ مہم چلائی جا سکے۔
اندرونی مخالفت اور قانونی خدشات
پی ٹی آئی چیئرمین گوہر علی خان نے منصوبے کو غیر آئینی اور غیر قانونی قرار دیا اور خبردار کیا کہ ایسی فورس عسکریت پسندی کے زمرے میں آ سکتی ہے۔
پارٹی کی اندرونی مشاورت کے بعد قیادت نے فورس کے تصور کو مکمل طور پر ختم کرنے کا فیصلہ کیا اور اسے ایک وسیع، جامع اور پرامن سیاسی تحریک کی شکل دے دی گئی۔
شیر افضل مروت: عمران خان جیل سے اپنی بہنوں کی وجہ سے باہر نہیں آ سکے
نئی حکمت عملی
- تحریک تمام حامیوں کے لیے کھلی ہو گی، بغیر کسی حلف برداری یا رسمی فورس کے۔
- شرکت محدود نہیں ہوگی، اور کسی قسم کے تشدد یا عسکریت پسندی کو مسترد کیا گیا ہے۔
- سڑکوں پر احتجاج کے وقت اور نوعیت کے فیصلے قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف محمود خان اچکزئی کریں گے، نہ کہ وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا۔
- وسیع مشاورت کے بعد متحد اور محتاط حکمت عملی اپنائی گئی، تاکہ ماضی کے پرتشدد واقعات دوبارہ نہ ہوں۔
اثرات اور تجزیہ
"فورس” سے روایتی سیاسی تحریک کی طرف تبدیلی کو پی ٹی آئی کے سخت گیر عناصر کی شکست کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔
پارٹی کے اندر عملی اور محتاط آوازیں زیادہ جارحانہ حکمت عملی پر غالب آ گئی ہیں، اور مستقبل کی تحریکیں پرامن اور آئینی حدود کے اندر رہیں گی۔
