یوکرین نے روس کے مغربی علاقے میں واقع ایک بڑے برآمدی آئل ٹرمینل کو ڈرون حملے کا نشانہ بنایا ہے۔ غیر ملکی میڈیا رپورٹس کے مطابق اس کارروائی میں بالٹک آئل ٹرمینل کو ہدف بنایا گیا، جو روسی تیل کی برآمد کے لیے نہایت اہم سمجھا جاتا ہے۔
برطانوی اخبار کے مطابق حملے میں پریمورسک کی بندرگاہ کو نشانہ بنایا گیا، جہاں سے روزانہ تقریباً 10 لاکھ بیرل خام تیل برآمد کیا جاتا ہے۔ یہ بندرگاہ روس کے لیے ایک اسٹریٹجک مرکز کی حیثیت رکھتی ہے، خاص طور پر ایسے ٹینکرز کے لیے جو پابندیوں سے بچ کر تیل کی ترسیل کرتے ہیں۔
رپورٹس میں بتایا گیا ہے کہ سیٹلائٹ تصاویر میں بندرگاہ کے علاقے سے آگ کے شعلے اور دھوئیں کے بادل اٹھتے ہوئے دیکھے گئے، جس سے نقصان کی شدت کا اندازہ لگایا جا سکتا ہے۔ حملے کے دوران ایندھن کے کئی ذخائر کو نشانہ بنایا گیا۔
یوکرین کی طرح ایران جنگ بھی کافی طویل ہوگی، چینی کینیڈین پروفیسر کی پیشگوئی
اسی دوران روس کے شہر اوفا میں واقع ایک آئل ریفائنری پر بھی ڈرون حملہ کیا گیا، جس کے بعد وہاں کام عارضی طور پر روک دیا گیا۔ حکام کے مطابق اس حملے نے توانائی کے شعبے میں خلل پیدا کیا ہے۔
یہ حملہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب یوکرین نے روسی تیل پر عائد پابندیوں میں ممکنہ نرمی پر سخت ردعمل ظاہر کیا تھا اور یورپی ممالک سے مطالبہ کیا تھا کہ وہ روس پر دباؤ برقرار رکھیں۔
