منشیات ایک منظم نیٹ ورک کا مسئلہ ہے، اسے سنجیدگی سے نہ لینے کی غلطی ہوئی: شرجیل میمن

تازہ ترین خبروں اور تبصروں کیلئے ہمارا وٹس ایپ چینل جوائن کریں

سندھ کے سینئر وزیر شرجیل انعام میمن نے کہا ہے کہ منشیات کا مسئلہ ایک منظم نیٹ ورک کی شکل اختیار کر چکا ہے اور ماضی میں اس معاملے کو سنجیدگی سے نہ لینا ایک بڑی غلطی ثابت ہوا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ منشیات معاشرے کے لیے زہر کی مانند ہے جس کے خلاف سخت اور مسلسل اقدامات کی ضرورت ہے۔

latest urdu news

منشیات کیس اور پنکی سے متعلق بیان

بی آر ٹی ریڈ لائن کے دورے کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے شرجیل میمن نے مبینہ منشیات فروش انمول عرف پنکی کے حوالے سے کہا کہ وہ منشیات کی ترسیل اور فروخت میں ملوث ایک بڑے نیٹ ورک کا حصہ تھی۔

انہوں نے کہا کہ منشیات کا کاروبار کئی افراد کے لیے ایک منظم ذریعہ آمدن بن چکا ہے، تاہم اس مسئلے پر ماضی میں خاطر خواہ توجہ نہیں دی گئی۔ ان کے مطابق وہ کسی ایک حکومت کو ذمہ دار نہیں ٹھہرا رہے بلکہ یہ ایک ملک گیر مسئلہ ہے جس سے دنیا بھر کے ممالک بھی متاثر ہیں۔

منشیات کے خلاف سخت موقف

شرجیل میمن نے میڈیا سے گفتگو میں کہا کہ منشیات کے مسئلے کو سنجیدگی سے لینا وقت کی ضرورت ہے اور اس عمل کو کسی صورت گلیمرائز نہیں کرنا چاہیے۔ ان کے مطابق منشیات کے استعمال سے ہر سال قیمتی انسانی جانیں ضائع ہو رہی ہیں، جو ایک سنگین سماجی بحران ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ حکومت سندھ بحالی مراکز کے قیام اور توسیع پر کام کر رہی ہے، تاہم یہ ایک بڑا چیلنج ہے جس کے لیے معاشرتی سطح پر بھی شعور پیدا کرنا ضروری ہے۔

معاشرتی اثرات اور والدین کا کردار

صوبائی وزیر نے کہا کہ منشیات کے عادی افراد بعض اوقات اس حد تک متاثر ہو جاتے ہیں کہ وہ اپنے رویے پر قابو نہیں رکھ پاتے۔ انہوں نے ایک واقعے کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ایک منشیات کے عادی نوجوان نے گھر والوں پر فائرنگ بھی کی، جو اس مسئلے کی سنگینی کو ظاہر کرتا ہے۔

کراچی میں گرفتار مبینہ منشیات فروش پنکی کی شناختی دستاویزات منظرِ عام پر آگئیں

انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ والدین کو اپنے بچوں پر نظر رکھنی چاہیے اور ابتدائی مرحلے پر ہی نشے کی علامات کو پہچان کر بروقت کارروائی کرنی چاہیے۔

ترقیاتی منصوبوں پر پیش رفت

شرجیل میمن نے کہا کہ کراچی میں ترقیاتی منصوبوں پر کام تیزی سے جاری ہے۔ ان کے مطابق ریڈ لائن بی آر ٹی منصوبے پر دن رات کام ہو رہا ہے جبکہ مختلف حصوں میں تعمیراتی سرگرمیاں جاری ہیں۔

انہوں نے بتایا کہ حکومت سندھ 23 مئی کو شاہراہِ بھٹو کا مکمل افتتاح کرنے جا رہی ہے، جبکہ کوشش ہے کہ اگست تک یونیورسٹی روڈ پر مکسڈ ٹریفک لین کا کام مکمل کر لیا جائے۔

کراچی کے لیے ٹرانسپورٹ منصوبے

انہوں نے کہا کہ کراچی جیسے بڑے شہر میں ٹرانسپورٹ کا نظام بہتر بنانا ایک مشکل مگر ضروری کام ہے۔ حکومت عوام کو زیادہ سے زیادہ سہولیات فراہم کرنے کے لیے نئی بسیں، پنک اسکوٹی اور دیگر منصوبے متعارف کروا رہی ہے۔

شرجیل میمن کے مطابق کراچی کی آبادی اور ٹریفک دباؤ کے باعث ترقیاتی منصوبے پیچیدہ ضرور ہیں، لیکن حکومت شہریوں کی مشکلات کم کرنے کے لیے عملی اقدامات جاری رکھے ہوئے ہے۔

شیئر کریں:

ہمیں فالو کریں

frontpage hit counter