واشنگٹن: سابق امریکی وزیر دفاع اور سی آئی اے کے سابق سربراہ لیون پنیٹا نے ایران کے ساتھ جاری تین ہفتوں کی جنگ پر صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی حکمت عملی کو کڑی تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے اسے "غیر سنجیدہ اور خطرناک” قرار دے دیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ صدر ٹرمپ اس وقت ایک ایسی بند گلی میں پہنچ چکے ہیں جہاں سے واپسی کا راستہ انتہائی کٹھن ہے۔
‘خیالی سوچ’ اور منصوبہ بندی کا فقدان
برطانوی اخبار کو دیے گئے ایک انٹرویو میں لیون پنیٹا نے کہا کہ صدر ٹرمپ کسی ٹھوس عسکری یا سفارتی منصوبے کے بجائے محض اپنی ’خیالی سوچ‘ (Wishful Thinking) پر انحصار کر رہے ہیں۔
"ٹرمپ کو یہ غلط فہمی ہے کہ ان کے بیانات خود بخود حقیقت کا روپ دھار لیں گے، لیکن جنگیں بیانات سے نہیں بلکہ زمینی حقائق اور درست منصوبہ بندی سے لڑی جاتی ہیں۔”
آیت اللہ خامنہ ای کے قتل کو ‘بڑی غلطی’ قرار دے دیا
لیون پنیٹا نے انکشاف کیا کہ ایرانی سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کو نشانہ بنانا ایک بڑی تزویراتی (Strategic) غلطی ثابت ہوا۔ ان کے بقول، امریکی انتظامیہ کا یہ خیال خام تھا کہ اس سے ایران میں عوامی بغاوت ہوگی، بلکہ اس کے برعکس تہران میں پہلے سے زیادہ سخت گیر اور سمجھوتہ نہ کرنے والی قیادت سامنے آگئی ہے۔
آبنائے ہرمز کی بندش اور تیل کا بحران
سابق سیکرٹری دفاع نے اس بات پر شدید حیرت کا اظہار کیا کہ امریکی سیکیورٹی اداروں میں ‘آبنائے ہرمز’ کی بندش کا خطرہ ہمیشہ زیرِ بحث رہنے کے باوجود، ٹرمپ انتظامیہ نے اس صورتحال سے نمٹنے کے لیے کوئی پیشگی تیاری نہیں کی۔
موجودہ چیلنج: لیون پنیٹا کے مطابق، ایران کے آبنائے ہرمز پر کنٹرول کی وجہ سے فی الحال جنگ بندی ممکن نظر نہیں آتی۔
ایران کا اسرائیل کی جوہری تنصیبات کے حامل شہر دیمونا پر میزائل حملہ، درجنوں زخمی
امریکی آپشنز: اب امریکہ کے پاس صرف یہ راستہ بچا ہے کہ وہ ایرانی ساحلی دفاعی نظام پر براہِ راست حملے کرے اور تیل بردار جہازوں کو خود راستہ فراہم کرے، جس سے جنگ میں شدت اور جانی نقصان کا خطرہ کئی گنا بڑھ جائے گا۔
انتظامیہ اور اخلاقیات پر تنقید
لیون پنیٹا نے موجودہ وزیر دفاع پیٹ ہیگستھ کو بھی آڑے ہاتھوں لیتے ہوئے انہیں ایک آزاد اور مؤثر وزیر کے بجائے محض صدر کا "ہاں میں ہاں” ملانے والا قرار دیا۔ انہوں نے ٹرمپ انتظامیہ پر سنگین الزام عائد کیا کہ:
تشہیری مقاصد: ہلاک فوجیوں کی لاشوں کی منتقلی اور جنگی ویڈیوز کو فنڈ ریزنگ اور پروپیگنڈے کے لیے استعمال کرنا غیر مہذب عمل ہے۔
عالمی تاثر: ایران میں لڑکیوں کے اسکول پر امریکی حملے پر معافی نہ مانگنا عالمی سطح پر امریکہ کے منفی تاثر کو مزید تقویت دے رہا ہے۔
