روس میں تعینات ایرانی سفیر Kazem Jalali نے اس خبر کی سختی سے تردید کی ہے کہ ایران کے سپریم لیڈر Mojtaba Khamenei روس کے کسی اسپتال میں زیرِ علاج ہیں۔ انہوں نے ان اطلاعات کو بے بنیاد اور پروپیگنڈا قرار دیا۔
روسی خبر رساں ایجنسی کے مطابق کاظم جلالی نے واضح کیا کہ مجتبیٰ خامنہ ای علاج کے لیے Moscow میں موجود نہیں ہیں۔ سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر اپنے بیان میں انہوں نے کہا کہ جھوٹ پھیلانے والوں کی یادداشت کمزور ہوتی ہے اور وہ جلد اپنے دعوے بھول جاتے ہیں۔
ایرانی سفیر کا کہنا تھا کہ ماضی میں بھی مغربی میڈیا ایرانی قیادت کے ملک چھوڑنے سے متعلق افواہیں پھیلاتا رہا ہے، اور اب اسی سلسلے کو آگے بڑھاتے ہوئے نئی من گھڑت خبریں سامنے لائی جا رہی ہیں۔ انہوں نے اسے نفسیاتی جنگ کا حصہ قرار دیا۔
انہوں نے مزید کہا کہ ایران کی قیادت نہ کہیں فرار ہوئی ہے اور نہ ہی کسی پناہ گاہ میں چھپی ہے، بلکہ وہ عوام کے درمیان موجود ہے۔ ان کے مطابق ایرانی عوام کی استقامت، ریاستی عزم اور مسلح افواج کی صلاحیتیں خطے میں جاری صورتحال کے نتائج کا تعین کریں گی۔
امریکا کا مجتبیٰ خامنہ ای سمیت 10 ایرانی رہنماؤں کی معلومات دینے پر 10 ملین ڈالر انعام کا اعلان
دوسری جانب کویتی اخبار کی ایک رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ مجتبیٰ خامنہ ای اپنے والد پر حملے میں زخمی ہوئے اور انہیں علاج کے لیے روس منتقل کیا گیا، یہاں تک کہ یہ بھی کہا گیا کہ انہیں روسی صدر Vladimir Putin کی دعوت پر ماسکو لایا گیا۔ تاہم ایرانی حکام نے ان تمام دعوؤں کو مسترد کر دیا ہے۔
ایک سینئر ایرانی عہدیدار کے مطابق سپریم لیڈر نے امریکا کے ساتھ کشیدگی کم کرنے کی تجاویز بھی مسترد کر دی ہیں اور موجودہ حالات میں سخت مؤقف اختیار کرنے پر زور دیا ہے۔
